تکبیر نیوز (برمنگھم، برطانیہ): برمنگھم کے علاقے ایکوکس گرین میں 18 سالہ نوجوان کو زومبی نائف رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جس نے عدالت میں بلیڈ رکھنے کے جرم کا اعتراف کر لیا۔
حزیق کاظمی نامی نوجوان، جو وارک روڈ کا رہائشی ہے، کو پولیس نے 28 جولائی کو ڈولفن لین میں دو دیگر نوجوانوں کے ہمراہ حراست میں لیا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس تقریباً شام ساڑھے 7 بجے ڈولفن لین پہنچی تو وہاں پہلے ہی پیدل تعاقب کا واقعہ پیش آچکا تھا، جس کے بعد تین نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق جب حزیق کاظمی کی تلاشی لینے کی باری آئی تو پولیس افسر نے اس سے پوچھا کہ آیا اس کے پاس کوئی ہتھیار موجود ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ اس کی جراب میں ٹخنے کے قریب چاقو موجود ہے۔
تلاشی کے دوران پولیس نے اس کے قبضے سے چاقو برآمد کر لیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حزیق کاظمی کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور وہ اس سے قبل کسی جرم میں سزا یافتہ نہیں رہا۔
نوجوان نے یکم ستمبر کو برمنگھم میجسٹریٹس کورٹ میں بلیڈ رکھنے کے جرم کا اعتراف کیا۔
دفاع کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ سزا سنانے سے قبل نوجوان کے حوالے سے پری سینٹنس رپورٹ تیار کرنے کے لیے سماعت ملتوی کی جائے۔
نوجوان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حزیق کاظمی کم عمر ہے، اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور وہ مجموعی طور پر اچھے کردار کا حامل ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں ممکنہ طور پر قید کی سزا کا خطرہ موجود ہے، اس لیے سزا سنانے سے قبل رپورٹ تیار کرنا ضروری ہے تاکہ عدالت تمام حالات کو مدنظر رکھ سکے۔
عدالت نے سزا سنانے کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 10 نومبر مقرر کر دی ہے۔
حزیق کاظمی کی سزا کا فیصلہ پری سینٹنس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا، جس میں ممکنہ طور پر قید سمیت دیگر سزاؤں پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برمنگھم میں نوجوانوں کے درمیان چاقو اور خطرناک ہتھیار رکھنے کے واقعات کے خلاف پولیس کارروائیوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
