تکبیر نیوز (ہولی ہیڈ): شمالی ویلز کے شہر ہولی ہیڈ میں 1994 میں قتل ہونے والی 64 سالہ پنشنر ڈورین مورس کے کیس میں 32 سال سے زائد عرصے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کے دوران چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈورین مورس کی لاش مارچ 1994 میں اینگلیسی کے ہولی ہیڈ کے مضافات میں واقع ان کے گھر سے ملی تھی، جہاں بنگلہ آگ لگنے کے بعد مکمل طور پر جل چکا تھا۔ واقعے نے اس وقت پورے علاقے میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی تھی۔
نارتھ ویلز پولیس نے 2024 میں اس پرانے قتل کیس کا ازسرنو جائزہ شروع کیا تھا۔ پولیس کے مطابق اسی جائزے کے دوران جدید فرانزک طریقوں اور گواہوں کے بیانات کی تفصیلی جانچ کے نتیجے میں شمالی ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور تین خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سینئر ریویو افسر مارک پیئرس کے مطابق فرانزک نتائج اور گواہوں کے شواہد کے تفصیلی جائزے سے چار افراد سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے شبے میں پوچھ گچھ کی بنیاد فراہم ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے ازسرنو جائزے کے دوران جدید تکنیکوں کے ذریعے پرانے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ڈورین مورس کی موت کے مکمل حالات اور اصل تفتیش میں ممکنہ رکاوٹوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
اس کیس میں جوزف کارل ویسٹبری کو 1995 میں مقدمے کی سماعت کے دوران ڈورین مورس کے قتل سے بری کر دیا گیا تھا۔ وہ مورس کے مل لین واقع گھر میں داخل ہونے کے الزام کی بھی تردید کرتا رہا۔ بعد ازاں 2016 میں اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پولیس کے مطابق ڈورین مورس کے اہل خانہ کو تازہ پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ایسے افراد سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جن کے پاس اس کیس سے متعلق کوئی معلومات موجود ہوں۔
معلومات نارتھ ویلز پولیس کو 101 پر یا کرائم اسٹاپرز کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہیں، جبکہ رابطے کے وقت آپریشن ایپوز (Operation Epose) کا حوالہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تفتیش جاری ہے اور پولیس نے کیس میں مزید گرفتاریوں یا آئندہ قانونی کارروائی کے امکان کو خارج نہیں کیا۔
