تکبیر نیوز (لندن، برطانیہ): لندن کے مشہور زیورات کے مرکز ہیٹن گارڈن میں 2015 کی بدنام زمانہ ڈکیتی کی جگہ کو ڈکیتی کی تھیم پر مبنی بار میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی پر مقامی جیولرز اور کاروباری افراد نے شدید اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
کیڈمن کونسل کو جمع کرائی گئی منصوبہ بندی کی درخواست کے مطابق مجوزہ منصوبے میں اس مقام پر ایک ہیسٹ تھیمڈ بار قائم کیا جائے گا، جبکہ 2015 میں ڈکیتی کے دوران نشانہ بنائے گئے والٹ کے اوپر واقع خاندانی زیورات کی دکان بھی بند ہو جائے گی۔
E Katz & Co ہیٹن گارڈن کی قدیم ترین قائم شدہ ریٹیل جیولری شاپ ہے، جسے ایمیل کاٹز نے 1946 میں قائم کیا تھا۔ ایمیل کاٹز نازی قبضے والے چیکوسلواکیہ سے فرار ہو کر برطانیہ آئے تھے۔
یہ مقام 2015 میں اس وقت عالمی سطح پر خبروں کا مرکز بن گیا تھا جب بزرگ ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے Hatton Garden Safe Deposit کی دیوار میں سوراخ کرکے کم از کم 14 ملین پاؤنڈ مالیت کی نقدی، زیورات اور قیمتی سامان لوٹ لیا تھا۔
اس ڈکیتی کو انگلینڈ کی قانونی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا گیا، جبکہ واقعے پر فلم King of Thieves سمیت ڈرامائی پیشکشیں بھی بنائی گئیں۔
اب منصوبہ بندی کی درخواست کے تحت اسی مقام کو مبینہ طور پر ڈکیتی کی تھیم والے تفریحی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق منظوری ملنے کی صورت میں عوام کو دن کے اوقات میں والٹ کے دورے کی سہولت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔
تاہم مقامی رہائشیوں اور کاروباری افراد نے منصوبے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے جرم کی تشہیر اور تمجید کا تاثر پیدا ہوگا۔
Katz & Co کے قریب واچ شاپ چلانے والے 40 سالہ مارک پاسٹر نے کہا کہ جیولرز اور گھڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد ڈکیتیوں کو قابلِ فخر یا تفریحی چیز کے طور پر پیش کیے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جن کاروباری افراد نے ڈکیتی میں اپنا سامان کھویا، ان کے لیے اس واقعے کو بار کی تھیم بنانا تکلیف دہ ہوگا۔
ہیٹن گارڈن میں 50 سال سے زائد عرصے سے کام کرنے والی ایک اور جیولر، جنہوں نے اپنا اسٹاک اسی والٹ میں رکھا ہوا تھا، نے منصوبے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی واردات کو فخر کی چیز سمجھا جا سکتا ہے۔
Katz & Co کے موجودہ مالک اور بانی ایمیل کاٹز کے بیٹے جارج کاٹز نے مقامی اخبار Islington Tribune سے گفتگو میں منصوبے کو ’’انتہائی نامناسب‘‘ قرار دیا۔
منصوبے کے خلاف جمع کرائے گئے اعتراضات میں ایک مقامی رہائشی نے کہا کہ ہیسٹ تھیم والے ادارے سے ہیٹن گارڈن کے روایتی کردار کو نقصان پہنچے گا، کیونکہ یہ علاقہ طویل عرصے سے جیولرز کے مرکز کے طور پر معروف ہے۔
اعتراض میں مزید کہا گیا کہ یہ کوئی ایسا جرم نہیں تھا جس میں صرف مجرم متاثر ہوئے ہوں بلکہ حقیقی کاروباری افراد اور خاندانوں نے اس کے نتیجے میں اپنی جمع پونجی اور کاروبار کو نقصان پہنچنے کا سامنا کیا، اس لیے ڈکیتی کو تفریحی تھیم بنانا متاثرہ دکانداروں اور ان کے خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
کیڈمن کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ کونسل ہمیشہ موجودہ کاروباری اداروں کے تحفظ کی کوشش کرے گی۔ ترجمان کے مطابق ہیٹن گارڈن انیسویں صدی سے زیورات کی صنعت کا اہم مرکز ہے اور کونسل جیولری ورکشاپس اور متعلقہ کاروباروں کے لیے موزوں جگہوں کے تحفظ کی کوشش کرے گی۔
کونسل کے مطابق منصوبے پر عوامی مشاورت 30 اگست 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔ اب افسران ترقیاتی پالیسیوں کے تحت درخواست کا جائزہ لیں گے اور عوام کی جانب سے موصول ہونے والے اعتراضات اور دیگر آراء کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
