ویسٹ مڈلینڈز: برطانیہ کے ویسٹ مڈلینڈز میں شدید گرمی کے دوران بھڑکنے والی متعدد آتشزدگیوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں درجنوں خاندان بے گھر ہوگئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
جمعرات 13 اگست کو سال کے گرم ترین دن کے دوران اسٹوربریج، ہائٹرز ہیتھ، اولڈبری، کیسل ویل اور کنگز نورتن سمیت مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
فائر فائٹرز نے کئی مقامات پر شدید نوعیت کی آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں کیں، جبکہ متعدد گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا۔
حکومت کا ہنگامی الرٹ
آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر برطانوی حکومت نے انگلینڈ اور ویلز میں موبائل فون صارفین کو ایمرجنسی الرٹ جاری کیا۔
عوام کو خبردار کیا گیا کہ وہ ایسی کوئی سرگرمی نہ کریں جس سے آگ بھڑکنے کا خطرہ ہو، جن میں باربی کیو، کیمپ فائر اور آتش بازی بھی شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق گرم اور خشک موسم کے دوران جنگلات اور گھاس کے علاقوں میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ مقامی حکام، فائر سروسز اور دیگر ہنگامی اداروں کے ساتھ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے فنڈ ریزنگ
آتشزدگی میں گھر اور قیمتی سامان کھونے والے خاندانوں کی مدد کے لیے مختلف فنڈ ریزنگ مہمات بھی شروع کردی گئی ہیں۔
برمنگھم کے ہائیٹرز ہیتھ میں ایک قطار میں موجود چھ گھروں کے آگ کی لپیٹ میں آنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد اور تنظیمیں متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش، کپڑے، ضروری اشیا اور مالی امداد جمع کرنے میں مصروف ہیں۔
فائر فائٹرز کی کارروائیاں جاری
کئی علاقوں میں فائر فائٹرز اب بھی آگ کے باقی ماندہ شعلوں اور گرم مقامات پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ آگ دوبارہ نہ بھڑک سکے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آگ لگنے کے خطرے کو بڑھانے والی سرگرمیوں سے گریز کریں اور دھواں یا آگ نظر آنے کی صورت میں فوری طور پر ہنگامی اداروں کو اطلاع دیں۔
حکومت اور مقامی اداروں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد اور آتشزدگیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
