ایپنگ: بیل ہوٹل کے باہر پُرتشدد احتجاج میں پولیس اہلکار کو لات مارنے والے فلپ کرسن کو دو سال اور تین ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
54 سالہ فلپ کرسن، جو اپ منسٹر کے بروک مینز پارک ڈرائیو کا رہائشی ہے، کو 10 اپریل 2026 کو چیلمسفورڈ کراؤن کورٹ میں دو ہفتے جاری رہنے والے مقدمے کے بعد پُرتشدد ہنگامہ آرائی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت میں پیش کیے گئے پولیس کے باڈی وارن کیمرہ فوٹیج سے ظاہر ہوا کہ 17 جولائی 2025 کو احتجاج اور جوابی احتجاج کرنے والوں کو الگ کرتے ہوئے کرسن نے ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ پر لات ماری۔
پولیس کے مطابق کرسن اسی روز متعدد مواقع پر مظاہرین کے ہجوم کے اگلے حصے میں بھی موجود تھا۔
ایپنگ کے بیل ہوٹل کے باہر احتجاج 2025 میں ایک جنسی حملے کے واقعے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر احتجاج پُرامن تھے، تاہم بعد میں صورتحال بدامنی اور املاک کو نقصان پہنچانے تک پہنچ گئی۔
بیل ہوٹل میں مقیم پناہ کے متلاشی حدوش گربرسلاسے کیباتو کو ستمبر 2025 میں جنسی حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
کرسن کو جمعرات 14 اگست کو اسی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے 27 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
اس کیس میں دیگر افراد کو بھی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ لی گوور کو دو سال نو ماہ جبکہ شان تھامسن کو دو سال سات ماہ قید کی سزا دی گئی۔
پولیس کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 11 افراد کو پُرتشدد ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا جا چکا ہے، جن میں سے آٹھ کو سزا سنائی گئی ہے۔
تین مزید افراد، کیتھ سلک، جوناتھن گلوور اور چارلی لینڈ، بھی مجرم قرار دیے جا چکے ہیں اور انہیں بعد میں سزا سنائی جائے گی۔
ایپنگ ڈسٹرکٹ کمانڈر چیف انسپکٹر ٹیری فشر نے کہا کہ ان واقعات کے باعث مقامی کمیونٹی خوف اور اضطراب کا شکار ہوئی، کاروبار جلد بند ہوئے اور شہر کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بہت سے افراد نے اہم معاملے پر اپنی آواز پُرامن انداز میں بلند کی، لیکن بعض لوگوں کا رویہ پُرامن احتجاج سے کہیں آگے چلا گیا، جسے پولیس نے ناقابل قبول قرار دیا۔
