ڈربی شائر: ڈربی شائر کے دو دیہات کو ٹریفک کے شدید دباؤ سے نکالنے اور تاریخی Swarkestone Causeway سے ہزاروں گاڑیوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے بائی پاس کا پرانا منصوبہ ایک بار پھر زیرِ غور آگیا ہے۔
Swarkestone Causeway تقریباً 700 سال پرانا تاریخی راستہ ہے اور Grade I-listed monument کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ A514 شاہراہ کو تقریباً تین چوتھائی میل تک دریائے ٹرینٹ کے قریب زرعی اور دلدلی علاقے سے گزارتا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ راستہ جدید دور کی ٹریفک کے لیے موزوں نہیں، کیونکہ اسے بنیادی طور پر گھوڑا گاڑیوں کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تنگ مقامات کے باعث بسوں، لاریوں اور ٹریکٹروں سمیت بڑی گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روزانہ تقریباً 20 ہزار گاڑیاں اس تاریخی راستے سے گزرتی ہیں، جس کے باعث Stanton-by-Bridge اور اطراف کے علاقوں میں اکثر شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔
بائی پاس منصوبہ کیوں اہم ہے؟
Swarkestone Causeway پر پہلے ہی 7.5 ٹن وزن کی حد اور 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی پابندی موجود ہے، تاہم اس کے باوجود گاڑیوں کے ٹکرانے سے تاریخی ڈھانچے کو بارہا نقصان پہنچ چکا ہے۔
راستہ بند ہونے کی صورت میں مقامی آبادی کو شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ڈربی اور ساؤتھ ڈربی شائر کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
2010 میں ڈربی شائر کاؤنٹی کونسل کی جانب سے ممکنہ بائی پاس راستوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس وقت تین راستوں کو قابلِ عمل قرار دیا گیا تھا، جن کی تخمینی لاگت £12 ملین سے £20 ملین کے درمیان تھی۔
اب East Midlands Freeport کے تحت خطے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کے باعث Swarkestone Causeway Bypass ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
مقامی کونسلوں کے مطابق East Midlands Intermodal Park سمیت نئی سرمایہ کاری کے لیے بڑے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی ضرورت ہوگی، جن میں Swarkestone Causeway کا بائی پاس بھی شامل ہوسکتا ہے۔
تاہم منصوبہ ابھی Derbyshire County Council کے بڑے مستقبل کے ہائی وے منصوبوں کی موجودہ فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مقامی افراد کیا کہتے ہیں؟
مقامی رہائشیوں نے طویل عرصے سے بائی پاس کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کئی دہائیوں سے بات ہورہی ہے لیکن عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
ایک رہائشی کے مطابق کاز وے پر ٹریفک کے باعث گاؤں سے نکلنے میں بعض اوقات 15 سے 20 منٹ لگ جاتے ہیں۔
ایک اور رہائشی نے بتایا کہ اس کے گھر کی بیرونی دیوار گزشتہ 23 سال کے دوران گاڑیوں کے ٹکرانے سے تین مرتبہ تباہ ہوچکی ہے۔
کچھ مقامی افراد بائی پاس کے ممکنہ منفی اثرات سے بھی پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹریفک کا رخ درست طریقے سے تبدیل نہ کیا گیا تو نئی سڑک قریبی علاقوں، خصوصاً Barrow-on-Trent، پر مزید ٹریفک کا دباؤ ڈال سکتی ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر بائی پاس تعمیر ہوتا ہے تو تاریخی کاز وے کو پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں، مقامی ٹریفک اور ہنگامی گاڑیوں کے لیے محدود راستے کے طور پر محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
