گلوچسٹر: برطانیہ میں £2.2 ملین کی منی لانڈرنگ اور منشیات کے کاروبار سے جڑے کیس میں گلوچسٹر کے دو افراد کو مجموعی طور پر کئی سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
31 سالہ پیٹرک وائٹ اور 31 سالہ تھامس ڈینٹی نے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا حصہ بننے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
برسٹل کراؤن کورٹ میں جمعہ 14 اگست کو سماعت کے دوران پیٹرک وائٹ کو 3 سال 8 ماہ جبکہ تھامس ڈینٹی کو 2 سال 9 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ دونوں افراد نے گلوچسٹر اور برسٹل کے مختلف پوسٹ آفس برانچز کے ذریعے £300,000 سے زائد رقم لانڈر کی۔
تحقیقات کے مطابق یہ آپریشن 35 سالہ گوسیپے سانجیوانی چلا رہا تھا، جس نے مجرمانہ رقم کو لانڈر کرنے کے لیے متعدد افراد کو اپنے ساتھ شامل کیا۔
جنوب مغربی ریجنل آرگنائزڈ کرائم گروپ نے اس وقت تحقیقات شروع کیں جب 28 پوسٹ آفس برانچز اور دو بینک مشینوں کے ذریعے بینک اکاؤنٹس میں مشکوک نقد رقوم جمع کرانے کا الرٹ سامنے آیا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ گروہ نے صرف چار ماہ کے دوران 1,168 لین دین کیے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً £2.2 ملین کی رقم لانڈر کرکے اسے فوری طور پر کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا گیا۔
سانجیوانی کے فلیٹ کی تلاشی کے دوران پولیس نے £30,000 نقد، رولیکس گھڑیوں، پورش گاڑی اور مہنگے ڈیزائنر کپڑے بھی برآمد کیے تھے۔
دونوں ملزمان نے منی لانڈرنگ کے علاوہ کلاس اے منشیات کوکین کی سپلائی سے متعلق جرائم کا بھی اعتراف کیا، جبکہ ڈینٹی نے کینابس کی سپلائی میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا۔
اس کیس میں مرکزی ملزم سانجیوانی کو رواں سال اپریل میں 6 سال 8 ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ سارہ بفن نامی خاتون کو ایک ملین پاؤنڈ سے زائد رقم لانڈر کرنے پر 3 سال قید کی سزا ملی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ضبط کیے گئے نقد اور اثاثوں کے حوالے سے ضبطی کے احکامات (confiscation orders) حاصل کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔
