ایشنگٹن: شمال مشرقی انگلینڈ میں ایک خاتون کو مسلسل تشدد اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنانے والے 27 سالہ ریان کلیورلی کو پانچ سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
نارتھمبریا پولیس کے مطابق کلیورلی نے تعلق کے دوران اپنی سابق ساتھی کو متعدد مرتبہ سر سے ٹکر ماری، مکے مارے، گلا دبایا، گھسیٹا، لاتیں ماریں اور دھکے دیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے فوراً بعد معافی مانگتا اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کے وعدے کرتا، جسے ماہرین نے "Love-Bombing” یعنی محبت اور توجہ کے ذریعے متاثرہ شخص پر اثرانداز ہونے کی ایک حربہ قرار دیا ہے۔
پولیس کے مطابق تعلق کے آغاز ہی سے خاتون نے کلیورلی کے رویے میں حسد، حد سے زیادہ محبت جتانے اور دیگر منافیانہ رویوں کو محسوس کیا تھا۔
بعد میں صورتحال سنگین ہوتی گئی اور معمولی بحث کے دوران بھی کلیورلی انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کرتا رہا۔
وہ بار بار خاتون پر بے وفائی کے الزامات لگاتا، اس کے فون تک رسائی کا مطالبہ کرتا اور اس کے پیسوں پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہاں تک کہ خاتون کو اکیلے نہانے پر بھی اعتراض کیا جاتا اور اسے بے وفائی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا۔
پولیس کے مطابق کلیورلی نے خاتون کے گھر میں موجود دو گیم کنسولز کو بھی جان بوجھ کر مائع ڈال کر خراب کردیا۔
آخرکار آخری حملے کے بعد خاندان کے ایک فرد کو مداخلت کرنا پڑی، جس کے بعد متاثرہ خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا اور تشدد کی تصاویر اور ویڈیو شواہد فراہم کیے۔
کلیورلی، جو ایشنگٹن کے Woodhorn Villas کا رہائشی ہے، کو فروری میں گرفتار کرکے الزامات عائد کیے گئے۔ جولائی میں نیو کاسل کراؤن کورٹ میں اس نے بیٹری کے دو، حقیقی جسمانی نقصان پہنچانے والے حملے کے تین، جان بوجھ کر گلا دبانے اور مجرمانہ نقصان کے الزامات کا اعتراف کیا۔
عدالت نے 6 اگست کو اسے پانچ سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کے تحفظ کے لیے اس پر تاحیات پابندی کا حکم (Lifelong Restraining Order) بھی عائد کیا ہے۔
نارتھمبریا پولیس کے ڈیٹیکٹو کانسٹیبل ایڈم گڈون نے کیس کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصے میں تشدد کی شدت میں اضافہ خاص طور پر پریشان کن تھا۔
انہوں نے متاثرہ خاتون کی پولیس سے رابطہ کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے اقدام پر فخر ہونا چاہیے اور امید ہے کہ وہ اب مستقبل کی جانب آگے بڑھ سکے گی۔
