تکبیر نیوز: خلائی طب کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے سائنسدانوں اور خلاء بازوں نے پہلی بار خلاء میں تشخیصی معیار کے ایکسرے (Diagnostic Quality X-rays) لینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ماہرین اس کامیابی کو مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کے لیے ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
یہ کامیابی مارچ 2025 میں اسپیس ایکس کے Fram2 مشن کے دوران حاصل ہوئی، جہاں کریو ڈریگن خلائی کیپسول میں موجود چار خلاء بازوں نے ایک جدید، ہلکی اور مکمل وائرلیس ڈیجیٹل ایکسرے مشین کے ذریعے اپنے ہاتھ، بازو، سینہ، پیٹ اور کولہے کے کامیاب ایکسرے لیے۔
زمین جیسا معیار، مگر خلاء میں
تحقیقی نتائج معروف طبی جریدے Radiology میں شائع کیے گئے، جن کے مطابق خلاء میں حاصل کی گئی ایکسرے تصاویر معیار کے لحاظ سے زمین پر لی جانے والی تصاویر کے برابر تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں خلا کے دوران بھی درست طبی تشخیص ممکن ہوگی۔
نئی پورٹیبل مشین کیوں خاص ہے؟
روایتی ایکسرے مشینیں حجم میں بڑی، وزنی اور زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مریض کی معمولی حرکت بھی تصویر کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کے برعکس نئی پورٹیبل ڈیجیٹل ایکسرے مشین انتہائی ہلکی، وائرلیس، کم توانائی استعمال کرنے والی اور مائیکرو گریویٹی (کم کششِ ثقل) کے ماحول میں مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہی خصوصیات اسے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے موزوں بناتی ہیں۔
صرف چار گھنٹے کی تربیت
تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ Fram2 مشن کے عملے نے پرواز سے قبل اس مشین کے استعمال کی صرف چار گھنٹے کی تربیت حاصل کی تھی۔
خلاء میں پہنچنے کے بعد تمام ایکسرے انہوں نے خود ہی کامیابی سے انجام دیے، جس سے ثابت ہوا کہ مستقبل میں خلاباز پیچیدہ طبی آلات کو محدود تربیت کے ساتھ بھی مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔
چاند اور مریخ مشنز میں بڑی سہولت
ماہرین کے مطابق مستقبل کے طویل خلائی مشنز میں اگر کسی خلاء باز کی ہڈی ٹوٹ جائے، اندرونی چوٹ لگے یا کوئی اور طبی مسئلہ پیدا ہو تو فوری تشخیص انتہائی ضروری ہوگی۔
چونکہ ایسے مشنز کے دوران مریض کو فوری طور پر زمین پر واپس لانا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے یہ ٹیکنالوجی خلابازوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
صرف طبی نہیں، تکنیکی معائنے میں بھی مددگار
تحقیق کے مطابق یہ پورٹیبل ایکسرے مشین صرف انسانی جسم ہی نہیں بلکہ خلائی جہاز، اسپیس سوٹس اور دیگر حساس آلات کا اندرونی معائنہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اس سے کسی بھی پوشیدہ خرابی یا نقصان کا بروقت پتا لگایا جا سکے گا، جس سے خلائی مشنز کی حفاظت مزید بہتر ہوگی۔
زمین پر بھی فائدہ
محققین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد صرف خلاء تک محدود نہیں رہیں گے۔
ہلکی اور وائرلیس ایکسرے مشینیں دنیا کے دور دراز، قدرتی آفات سے متاثرہ یا طبی سہولتوں سے محروم علاقوں میں بھی فوری تشخیص کی سہولت فراہم کر سکتی ہیں، جہاں روایتی ایکسرے مشینیں پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔
اگلا مرحلہ
تحقیقی ٹیم اب مزید چھوٹے، خودکار اور روبوٹک ایکسرے نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ آئندہ چاند، مریخ اور دیگر طویل خلائی مشنز میں طبی سہولتوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مستقبل کی خلائی میڈیکل ٹیکنالوجی میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
