تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کے علاقے کوئنٹن میں گھر میں لگنے والی آگ نے 75 سالہ خاتون موئرا ڈیپروز کی زندگی اجاڑ دی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ آگ لگنے کے بعد اپنا تقریباً سب کچھ کھو چکی ہیں اور مستقل گھر کے انتظار میں ہیں۔
موئرا کے مطابق انہیں گھر میں آگ لگنے کا علم اس وقت ہوا جب ایک پڑوسی نے ان کے گھر کا دروازہ توڑ کر انہیں خبردار کیا۔ وہ صرف نائٹ ڈریس اور چپل میں گھر سے باہر نکل سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلدی میں سیڑھیوں سے اترتے ہوئے وہ تقریباً گر گئی تھیں، تاہم ایک شخص نے انہیں دروازے سے باہر نکالا۔
موئرا گزشتہ 45 برس سے دی ہِل میں واقع اسی گھر میں رہ رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ فرنیچر اور دیگر چیزیں دوبارہ خریدی جا سکتی ہیں، لیکن کچھ ذاتی یادیں ایسی ہیں جو کبھی واپس نہیں آ سکتیں۔
ان قیمتی اشیا میں ان کے بیٹے کی یادیں بھی شامل تھیں، جن کا رواں سال اپریل میں انتقال ہوا تھا۔
آگ کو یاد کرتے ہوئے موئرا نے بتایا کہ وہ بستر پر لیٹی کتاب پڑھ رہی تھیں کہ اچانک انہیں کسی شخص کے سامنے کا دروازہ توڑنے اور چیخ کر یہ کہنے کی آواز سنائی دی کہ ان کا گھر جل رہا ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز فائر سروس کے مطابق ابتدائی طور پر خیال ہے کہ آگ حادثاتی طور پر بے احتیاطی سے پھینکے گئے سگریٹ کے باعث لگی۔
موئرا نے بھی کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ آگ جان بوجھ کر نہیں لگائی گئی، تاہم لوگوں کو سگریٹ پھینکتے وقت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
آگ کے بعد گھر کو تختوں سے بند کر دیا گیا تھا، تاہم موئرا کے مطابق اس کے بعد بھی گھر میں متعدد مرتبہ چوریاں ہو چکی ہیں۔
اس مشکل وقت میں مقامی کمیونٹی بھی ان کی مدد کے لیے سامنے آئی ہے۔ کوئنٹن میں بارنارڈوز چیریٹی شاپ سے وابستہ رچرڈ ہیرس نے موئرا کے لیے آن لائن چندہ مہم شروع کی اور انہیں چیریٹی شاپ آنے کی دعوت بھی دی۔
موئرا کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی وہاں جاتی ہیں تو عملہ انہیں گلے لگاتا ہے، اور یہ محبت ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔
رچرڈ ہیرس نے کہا کہ وہ موئرا کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ کمیونٹی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو مشکل ترین وقت میں بھی دوسروں کی حقیقی پروا کرتے ہیں اور امید دلاتے ہیں۔
موئرا اس وقت اپنی بیٹی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کبھی کمپیوٹر استعمال نہیں کیا، جس کی وجہ سے گھر سے محرومی کے بعد دستیاب امداد تک رسائی حاصل کرنا ان کے لیے مزید مشکل رہی۔
برمنگھم سٹی کونسل نے کہا ہے کہ گھر سے محروم ہونا انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہو سکتا ہے اور وہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔
کونسل کے مطابق اس کے ہاؤسنگ افسران موئرا سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اس مشکل وقت میں انہیں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
کونسل نے مزید بتایا کہ کئی برسوں سے سرمایہ کاری میں کمی کے باعث سرکاری گھروں کی قلت ہے، جس کی وجہ سے موئرا کے لیے مستقل رہائش کا انتظام مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق انہیں عارضی رہائش کے مختلف آپشنز دکھائے گئے ہیں اور ان کی مدد جاری رکھی جائے گی۔
