تکبیر نیوز (اسٹافورڈ شائر): اسٹافورڈ شائر میں خاندان کے ساتھ کیمپنگ کے دوران تین ماہ کی بچی کی موت کے معاملے میں قتل کے شبہ میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ہفتے کی صبح 8 بج کر 45 منٹ پر چیسلن ہے کے قریب اسٹرابری لین سے متصل جنگلاتی علاقے میں ایک بچی کے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع پر ہنگامی امدادی ٹیمیں پہنچیں، جہاں تین ماہ کی بچی مردہ پائی گئی۔
اس واقعے کے بعد ایک 42 سالہ مرد اور 30 سالہ خاتون، دونوں کا تعلق جنوبی اسٹافورڈ شائر سے ہے، جبکہ وولورہیمپٹن سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون اور والسال سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا۔
اسٹافورڈ شائر پولیس کے مطابق چاروں افراد کو جائے وقوعہ سے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیشی افسر جوش لی نے کہا کہ پولیس بچی کی موت کے حالات سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے اور تمام امکانات کو کھلا رکھا گیا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ واقعے کے بارے میں غیر مصدقہ یا قیاس آرائیوں پر مبنی دعوے آن لائن شیئر نہ کیے جائیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ وائرلی اینڈ ایسنگٹن برانچ کینال لوکل نیچر ریزرو کے ایک نسبتاً پوشیدہ جنگلاتی حصے میں پیش آیا۔ یہ علاقہ باقاعدہ کیمپنگ سائٹ نہیں ہے، تاہم مقامی افراد کے مطابق قریبی تالابوں میں لوگ مچھلیاں پکڑنے کے لیے آتے ہیں جبکہ نیچر ٹریل کتوں کو گھمانے اور دوڑنے والوں میں بھی مقبول ہے۔
جائے وقوعہ کے قریب، مچھلی پکڑنے والی جھیل کے پاس دو کیمپنگ ٹینٹ لگے ہوئے تھے اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کیں۔
پولیس نے ہفتے کے آخر میں علاقے میں موجود رہ کر مقامی آبادی کو صورتحال کے حوالے سے یقین دہانی بھی کرائی۔ بچی کی یاد میں جائے وقوعہ کے قریب گلاب کے پھولوں کا گلدستہ بھی رکھا گیا۔
تقریباً 7 ہزار آبادی والے علاقے چیسلن ہے کے رہائشی بچی کی موت کی خبر پر صدمے میں ہیں۔
ساؤتھ اسٹافورڈ شائر کونسل کے کونسلر رابرٹ ڈنکن نے کہا کہ کمیونٹی اس واقعے سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے اور خاندان اور امدادی کارکنوں کو رازداری اور احترام دینے کی اپیل کی۔
کینوک چیز میتھوڈسٹ چرچ سرکٹ کی سپرنٹنڈنٹ ریورنڈ سمانتھا ہیگرمین نے بھی متاثرہ خاندان، دوستوں اور واقعے سے متاثر ہونے والی ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کے لیے ہمدردی اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
اسٹون، گریٹ وائرلی اور پینکِرج کے رکن پارلیمنٹ سر گیون ولیمسن نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خبر سے علاقے میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے بھی لوگوں پر زور دیا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کا موقع دیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
