تکبیر نیوز (ویسٹ مڈلینڈز): جیگوار لینڈ روور (JLR) کی جانب سے آئندہ دو برس کے دوران تقریباً 4 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے اعلان نے کمپنی کے ملازمین اور اس سے وابستہ سپلائی چین میں بے یقینی اور تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق ملازمتوں میں کمی کا بڑا حصہ کمپنی کے وِٹلی، کووینٹری میں واقع ہیڈ آفس سے ہوگا، تاہم اس کے اثرات ویسٹ مڈلینڈز کی صنعتی معیشت اور ہنرمند افرادی قوت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
برمنگھم بزنس اسکول کے پروفیسر ڈیوڈ بیلی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تحقیق اور ترقی کے شعبے میں ضرورت سے زیادہ ملازمتیں کم کی گئیں تو مستقبل میں کمپنی کی نئی گاڑیاں تیار کرنے اور جدت لانے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق جے ایل آر اس وقت ایک انتہائی اہم مرحلے سے گزر رہی ہے اور کمپنی کے اندر ملازمین کو مستقبل کے حوالے سے حقیقی تشویش لاحق ہو سکتی ہے۔
پروفیسر بیلی نے کہا کہ وہ جے ایل آر کو درپیش مشکلات کو سمجھتے ہیں، تاہم افرادی قوت میں کمی ایک خطرناک قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب کمپنیوں کے منافع پر دباؤ بڑھتا ہے تو وہ اخراجات اور سرمایہ کاری کم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں برطانیہ کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور مستقبل کی سرمایہ کاری دوسرے ممالک کا رخ کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی موٹر انڈسٹری کو برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی مدد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ شعبہ صرف فیکٹری ورکرز کی ملازمتوں تک محدود نہیں بلکہ تحقیق و ترقی، انجینئرنگ، پرزہ جات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور علاقائی معیشتوں کو بھی سہارا دیتا ہے۔
کووینٹری میں قائم جے ایل آر کی پرزہ جات فراہم کرنے والی کمپنی ایوٹیک گروپ کے چیئرمین ڈیوڈ رابرٹس نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملازمتیں ختم ہوئیں تو بہت سے ہنرمند افراد ممکنہ طور پر موٹر انڈسٹری ہی چھوڑ دیں گے، جبکہ ایسے ہنر اور تجربے کو تیار کرنے میں کئی سال لگتے ہیں لیکن اسے کھونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
جے ایل آر کو گزشتہ عرصے کے دوران فروخت میں کمی، سائبر حملے کے اثرات، چینی کمپنیوں سے بڑھتا ہوا مقابلہ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
کمپنی نے اسی دوران برقی گاڑیوں کے مستقبل کے لیے اپنی کاروباری حکمت عملی تبدیل کرنے پر اربوں پاؤنڈ کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
برمنگھم سٹی یونیورسٹی کے سیاسی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اسٹیو میک کیب کے مطابق ملازمتوں میں کمی ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنے اخراجات اور نظام کو زیادہ مؤثر بنا کر مستقبل میں خود کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال عارضی ثابت ہوگی۔
جے ایل آر کی نئی سمت میں ایک اہم قدم 6 اکتوبر کو سامنے آئے گا، جب کمپنی نئی برقی گاڑی متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
روور گروپ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر کیون مورلی نے اس پیش رفت کو کمپنی کے لیے فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر نئی جیگوار کمپنی کی توقعات کے مطابق فروخت نہ کر سکی تو 4 ہزار ملازمتوں کی موجودہ کٹوتی آخری مرحلہ نہیں ہوگی۔
دوسری جانب خطے میں جے ایل آر کی اہمیت کے پیش نظر ویسٹ مڈلینڈز کی ہنرمند افرادی قوت کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
گریٹر برمنگھم چیمبرز آف کامرس کی پالیسی سربراہ ایملی اسٹبس نے کہا کہ ویسٹ مڈلینڈز میں جدید صنعتی شعبے کے لیے گہری اور اعلیٰ سطح کی مہارتیں موجود ہیں، اس لیے حکومت، کاروباری اداروں اور تربیتی اداروں کو مل کر یہ صلاحیتیں علاقائی معیشت میں برقرار رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
ویسٹ مڈلینڈز کے میئر رچرڈ پارکر نے بھی کہا کہ یہ انتہائی ہنرمند افراد ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مہارتیں خطے میں ہی برقرار رہیں۔
ان کے مطابق مشترکہ اتھارٹی نے ان جے ایل آر ملازمین کے لیے 5 لاکھ پاؤنڈ کا امدادی پیکیج تیار کیا ہے جو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید معاونت بھی دستیاب ہو سکتی ہے اور جے ایل آر خطے کے لیے انتہائی اہم ادارہ ہے۔
