تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے شہر میں بغیر اجازت مختلف مقامات پر جھنڈے لگانے کے خلاف دائر درخواست پر آج ہائی کورٹ میں اہم سماعت ہو رہی ہے، جہاں کونسل فلیگ لگانے والے کارکنوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرے گی۔
سماعت برمنگھم سول کورٹس میں ہو رہی ہے، جہاں رائز دی کلرز گروپ کے بانیان ریان برج اور ایلیٹ اسٹینلے سمیت دیگر نامزد افراد اپنے موقف کا دفاع کریں گے۔
کونسل کی درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بغیر اجازت لیمپ پوسٹس، اسٹریٹ فرنیچر اور کونسل کی دیگر املاک پر جھنڈے لگانے سے روکا جائے۔
کونسل کے مطابق اگست 2025 سے فلیگ لگانے والے افراد برمنگھم میں لیمپ پوسٹس، روشنی کے کھمبوں، سڑک کے نشانات، ریلنگز، پلوں اور رکاوٹوں سمیت مختلف مقامات پر بغیر اجازت جھنڈے نصب کر رہے ہیں۔
کونسل کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی آخری راستے کے طور پر کی جا رہی ہے، تاہم حکام کے مطابق حالات کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر اور قریبی علاقوں میں اب تقریباً 20 ہزار جھنڈے نصب کیے جا چکے ہیں۔
کونسل کے کمیونٹی سیفٹی، ریزیلینس اینڈ کوہیژن کے ڈائریکٹر وقار احمد نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ فلیگ لگانے والے افراد کا رویہ پرامن نہیں رہا بلکہ ان کا طرزِ عمل جارحانہ ہے اور وہ مقامی آبادی اور رہائشیوں کو ہراساں اور خوف زدہ کر رہے ہیں۔
کونسل کا مزید دعویٰ ہے کہ جھنڈے دن اور رات کے مختلف اوقات میں بغیر اجازت نصب کیے جاتے ہیں، جس سے خلل پیدا ہوتا ہے۔ دستاویزات میں بعض افراد پر مخالف رہائشیوں اور جھنڈے اتارنے والے کونسل کے ٹھیکیداروں سے مبینہ طور پر الجھنے، دھمکانے اور غیر سماجی رویے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
کونسل نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ بعض مواقع پر نسلی اور جنسی نوعیت کی گالم گلوچ، تشدد کی دھمکیاں، املاک کو نقصان پہنچانے، رہائشیوں کا تعاقب کرنے اور ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے جیسے واقعات سامنے آئے۔
دستاویزات کے مطابق بعض افراد نے ٹریفک کنٹرول کیمروں اور سڑک کے نشانات کو بھی جھنڈوں سے ڈھانپ دیا، جس سے سڑک استعمال کرنے والوں، کونسل کے کارکنوں اور مقامی رہائشیوں کے لیے خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کونسل نے مئی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ایک رہائشی کو چیری پکر کی زد میں آنے سے ٹانگ ٹوٹنے سمیت چوٹیں آئیں۔ پولیس اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ درخواست میں الچرچ، موسلی اور اسٹرچلی میں پیش آنے والے دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رائز دی کلرز کے نمایاں کارکن 45 سالہ ریان برج نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ برومزگروو سے تعلق رکھنے والے برج کا کہنا ہے کہ وہ محبِ وطن ہیں اور برمنگھم کے بیشتر شہری ان کی حمایت کرتے ہیں۔
برج نے عدالتی کارروائی کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ وہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
عدالت میں کونسل کی درخواست میں سات افراد کو نامزد فریق بنایا گیا ہے، جن میں ریان برج، جولیئن کین عرف ’’ایلون‘‘، ایلیٹ اسٹینلے، راس چائلڈز عرف ’’راس دی ڈان‘‘، بلی ایلیسن، بین کلن اور مارک کیٹنگ شامل ہیں۔
ریفارم یو کے کے قومی اور مقامی نمائندوں نے کونسل کی درخواست کو وقت اور وسائل کا ضیاع قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنما نائجل فاریج نے بھی حالیہ پارٹی کانفرنس کے دوران رائز دی کلرز گروپ کی حمایت کی اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے امکان پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔
ہائی کورٹ کے سامنے موجودہ درخواست کا فیصلہ صرف نامزد افراد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اگر حکم جاری ہوا تو بغیر پیشگی اجازت مختلف ممالک یا مقاصد کے جھنڈے لگانے والے دیگر افراد پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
