تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں منشیات کے علاقے پر قبضے کے تنازع میں ایک شخص کی ٹانگ پر چاقو سے حملہ کرنے والے نوجوان کے حق میں کردار کا ریفرنس دینے پر جج نے کونسلر ممتاز حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
20 سالہ اظہر العزیب نے جنوری 2025 میں ایسٹن کے علاقے میں ایک شخص پر حملہ کیا تھا۔ عدالت کے مطابق اظہر کو شبہ تھا کہ متاثرہ شخص اس علاقے میں منشیات فروخت کر رہا ہے جس پر ان لوگوں کا کنٹرول تھا جن کے لیے وہ کام کر رہا تھا۔
اظہر کو حملے کے جرم میں چھ سال نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ رہائی کے بعد مزید تین سال توسیعی لائسنس پر رہنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے اسے ’’خطرناک‘‘ مجرم بھی قرار دیا۔
گزشتہ ماہ برمنگھم کراؤن کورٹ میں سزا سنائے جانے کے موقع پر جج رچرڈ بانڈ نے کونسلر ممتاز حسین کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے کردار کے ریفرنس پر اعتراض کیا۔
جج نے ریفرنس میں اظہر کے بارے میں لکھے گئے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے کم عمری سے جاننے والے افراد اسے باادب، مددگار اور اچھے کردار کا حامل قرار دیتے ہیں، تاہم جج کے مطابق یہ بیان حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جج رچرڈ بانڈ نے کہا کہ یہ برمنگھم میں کونسلرز کی جانب سے اس نوعیت کے ریفرنسز کا ایک مسلسل مسئلہ ہے اور بعض دیگر جج بھی اس معاملے پر پہلے اعتراض کر چکے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اظہر اس سے قبل بھی ایک شخص کو چاقو دکھا کر زخمی کرنے اور لوٹنے کے جرم میں ملوث رہا تھا۔ جج نے یہاں تک کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سماعت ملتوی کرکے کونسلر ممتاز حسین کو عدالت میں بطور گواہ طلب کر سکتے ہیں۔
اظہر کے وکیل رابرٹ ہولٹ نے عدالت سے درخواست کی کہ ریفرنس کو نظر انداز کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق وکلا کی جانب سے عدالت کے نظام پر دستاویز اپ لوڈ کیے جانے سے پہلے انہیں اسے دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
تاہم کونسلر ممتاز حسین نے تصدیق کی کہ انہوں نے خود یہ ریفرنس فراہم کیا تھا اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔
ممتاز حسین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے اظہر کے ساتھ ان کے ذاتی تجربے اور مقامی رہائشی کی حیثیت سے واقفیت پر مبنی تھے۔ ان کے مطابق وہ ایک ہی سڑک پر رہتے تھے اور انہوں نے اظہر کو کم عمری سے جانا، جبکہ اپنی ذاتی ملاقاتوں میں اسے باادب، بااحترام اور خوش اخلاق پایا۔
کونسلر نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمی یا تشدد کی حمایت نہیں کرتیں اور نہ ہی غیر قانونی رویے کو درست سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق ریفرنس صرف اس شخص کے بارے میں ان کے ذاتی تجربے کی عکاسی تھا جسے وہ جانتی تھیں۔
انہوں نے عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی مناسب فراہمی وہ بنیادی اصول ہیں جن کی وہ بھرپور حمایت کرتی ہیں۔
عدالت کو اظہر کے جرم کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا گیا کہ 20 جنوری 2025 کو ایسٹن میں ٹیسکو کے قریب اس کا سامنا متاثرہ شخص سے ہوا۔ اظہر نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ’’شوٹنگ‘‘ یعنی منشیات فروخت کرنے میں ملوث ہے۔
متاثرہ شخص نے سوال پر حیرانی کا اظہار کیا، جس کے بعد اظہر نے اپنی گاڑی سے مچیٹی نکال کر اسے دھمکانے کے لیے گاڑی کی کھڑکی کے اندر کی جانب کیا۔
بعد ازاں دونوں وہاں سے چلے گئے۔ عدالت کے مطابق اظہر نے کپڑے تبدیل کیے اور ایک دوست کو گاڑی چلانے کے لیے ساتھ لیا۔ کچھ دیر بعد اس کا دوبارہ متاثرہ شخص سے سامنا ہوا اور اس نے اس کی ٹانگ پر چاقو مار دیا۔
زخمی شخص اسپتال پہنچنے میں کامیاب رہا اور جان بچ گئی، تاہم حملے کے نتیجے میں وہ مستقل طور پر لنگڑا کر چلنے لگا۔
اظہر، جو ایسٹن کے بروکلن ایونیو کا رہائشی ہے، کو ارادے کے ساتھ زخمی کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔ جج نے واضح کیا کہ اسے منشیات فروشی کے جرم میں سزا نہیں دی گئی، تاہم عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ منشیات کے کاروبار سے منسلک تھا اور ایسے افراد کے لیے کام کر رہا تھا جو اس میں ملوث تھے۔
اظہر کے وکیل نے عدالت میں اسے ’’نادان اور ناپختہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وہ ہتھیاروں اور تشدد کا عادی ہو چکا تھا، تاہم اب اس نے متاثرہ شخص اور اپنے جرائم سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کے لیے ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کیا ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اظہر نے ایک دن میں 15 مرتبہ چرس کے جوائنٹ پینے کا اعتراف کیا تھا۔
