تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کے علاقے ہاکلے میں تیز رفتار آڈی کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے 65 سالہ شخص موریس مڈلٹن کے اہل خانہ نے انہیں خاندان کا ’’سہارا اور بادشاہ‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
موریس مڈلٹن اپنی اہلیہ کے لیے اخبار اور سگریٹ لینے جا رہے تھے۔ یہ ان کی نایاب چھٹی کا دن تھا، جبکہ گھر میں ان کی اہلیہ اتوار کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 27 سالہ شانیس حسین، جو ہینڈزورتھ کے ویسٹ ڈرائیو علاقے سے تعلق رکھتی ہیں، تقریباً 48 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں، جبکہ سڑک پر رفتار کی حد 30 میل فی گھنٹہ تھی۔
ہسین نے ایک جیگوار سے بچنے کے لیے گاڑی موڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد آڈی بے قابو ہو کر کرب سے ٹکرا گئی۔ عدالت کے مطابق اس موقع پر گاڑی چلانے والی نے بریک کے بجائے ایکسیلیریٹر دبا دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور موریس مڈلٹن کو ٹکر مار دی۔
شدید ٹکر کے نتیجے میں موریس مڈلٹن اچھل کر ایک دکان کے سامنے جا گرے اور موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک اور راہ گیر بھی گاڑی کی زد میں آیا تاہم اسے شدید نوعیت کی چوٹیں نہیں آئیں۔
موریس مڈلٹن پیشے کے اعتبار سے فیبریکیٹر اور ویلڈر تھے اور ان کے خاندان کے مطابق انہوں نے 32 سال تک ہفتے میں چھ سے سات دن کام کیا تاکہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔
ان کی بیٹی روز نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاندان کا ’’سہارا اور بادشاہ‘‘ تھے اور ہر روز ان کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ پوری زندگی ان کے نقصان کا غم مناتے رہیں گے۔
برمنگھم کراؤن کورٹ میں 3 ستمبر کو سماعت کے دوران جج ڈین کرشا نے شانیس حسین کو خطرناک ڈرائیونگ کے نتیجے میں موت واقع ہونے کے جرم میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی۔
جج نے قرار دیا کہ حسین جس غیر ذمہ دارانہ رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں، اس کے باعث وہ جیگوار کے اشارے کو بروقت نہیں دیکھ سکیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت سے زیادہ رفتار اور اوورٹیک کرنے کا فیصلہ نہ کیا جاتا تو موریس مڈلٹن کی موت واقع نہ ہوتی۔
