(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں محض دو دن باقی رہ گئے ہیں، اور سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا ہے جہاں مختلف جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں برمنگھم سمیت سینڈویل، سولی ہل، والسال، ڈڈلی اور وولورہیمپٹن میں پولنگ کا آغاز ہو جائے گا، جہاں ووٹرز آئندہ چار سال کے لیے اپنی مقامی حکومتوں کا انتخاب کریں گے۔
برمنگھم میں اس بار انتخابی مقابلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار میں موجود جماعت کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور اقتدار میں تبدیلی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
شہر کے 69 حلقوں میں ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے، جو مجموعی طور پر 101 رکنی کونسل کا حصہ بنیں گے۔ یہی کونسل شہر کے اربوں پاؤنڈ کے بجٹ اور دس لاکھ سے زائد آبادی کے لیے خدمات کے نظام کو چلانے کی ذمہ دار ہوگی۔
سیاسی منظرنامے میں اس وقت مختلف جماعتیں میدان میں ہیں اور یہ واضح نہیں کہ کون سی جماعت اکثریت حاصل کرے گی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی ایک جماعت کو واضح برتری نہ ملنے کی صورت میں مخلوط حکومت بھی قائم ہو سکتی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران مختلف حلقوں میں کشیدگی، تلخ بیانات اور الزامات کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے، جبکہ بعض امیدواروں کے حوالے سے خدشات اور شکایات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار ووٹرز کا ٹرن آؤٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گزشتہ انتخابات میں صرف ایک تہائی ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بار ہر ووٹ انتہائی اہم ہوگا کیونکہ کئی حلقوں میں کامیابی کا فیصلہ چند ووٹوں کے فرق سے ہو سکتا ہے۔
ووٹرز کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں کیونکہ یہی وہ موقع ہے جہاں شہری اپنی مقامی حکومت کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
