(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ویسٹ مڈلینڈز) برطانیہ میں کوڈنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ایک بڑی کمپنی نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسکول آف کوڈنگ اینڈ اے آئی کے مطابق نئی نوکریوں کی بڑی تعداد ویسٹ مڈلینڈز خصوصاً برمنگھم اور وولورہیمپٹن میں دی جائے گی جبکہ کچھ مواقع بیرونِ ملک بھی دستیاب ہوں گے۔
ادارے کے مطابق اس وقت تقریباً 170 افراد کمپنی میں کام کر رہے ہیں جبکہ نئی توسیع کا مقصد کوڈنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیت کو فروغ دینا ہے۔
ادارے نے گزشتہ برس برمنگھم میں 25 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے جدید ٹیک لیب قائم کی جبکہ وولورہیمپٹن ہیڈکوارٹر کی ازسرنو تعمیر بھی مکمل کی گئی۔
اس کے علاوہ دبئی میں ایک نیا بین الاقوامی کیمپس بھی قائم کیا گیا جہاں دو ہزار طلبہ کو اے آئی، کمپیوٹر سائنس اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
اسکول آف کوڈنگ اینڈ اے آئی نے 2017 میں کام شروع کیا تھا جبکہ 2025 میں یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن کے اشتراک سے برمنگھم میں نیا کیمپس قائم کیا گیا۔
اس کیمپس میں کمپیوٹر سائنس، بزنس مینجمنٹ اور ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر جیسے کورسز کروائے جا رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق وہ حکومتی معاونت سے چلنے والے ادارے “شا ٹرسٹ” کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے تاکہ طویل عرصے سے بے روزگار افراد اور مین اسٹریم اسکولوں سے خارج کیے جانے والے نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
کمپنی کے بھرتی مینیجر اینڈریو رائٹ نے کہا کہ ادارہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور مختلف شعبوں میں نئے افراد بھرتی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی اپرنٹس شپ اسکیم بھی متعارف کرا رہی ہے تاکہ کالج مکمل کرنے والے نوجوانوں کو پروفیشنل دنیا میں داخلے کے مواقع دیے جا سکیں۔
ادارے کے بانی مینی اتھوال نے کہا کہ یہ توسیع ویسٹ مڈلینڈز کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ برطانیہ میں ٹیکنالوجی اور اے آئی مہارتوں کی کمی کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
