تکبیر نیوز (رائل): شمالی ویلز کے علاقے رائل میں کم عمر لڑکیوں کو منشیات اور شراب کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا کر جنسی استحصال اور اسمگلنگ کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں پانچ افراد کو مجموعی طور پر 82 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
کیرنارفون کراؤن کورٹ میں 25 ستمبر کو سزا سنائے جانے والے افراد میں مصطفیٰ اقبال، محمد ارشد، ضیاء اللہ بادشاہ، جسوندر سنگھ اور سارہ گرے شامل ہیں۔
عدالت کے مطابق تین کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پولیس تحقیقات کے دوران ملزمان کے موبائل فونز سے حاصل ہونے والے پیغامات اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی اہم شواہد بنے۔
مصطفیٰ اقبال کو 30 سال قید
43 سالہ مصطفیٰ اقبال کو مجموعی طور پر 21 جرائم میں مجرم قرار دیا گیا، جن میں ریپ کے چار اور جنسی حملے کے تین جرائم بھی شامل ہیں۔
اسے دو لڑکیوں کے ساتھ ریپ کا مجرم قرار دیا گیا جبکہ انسانی اسمگلنگ کی سازش اور بھنگ و کوکین کی فراہمی کی سازش میں بھی قصوروار پایا گیا۔
عدالت نے اسے 30 سال قید کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ اسے زندگی بھر جنسی جرائم کے مجرموں کے رجسٹر میں شامل رکھا جائے گا۔
منشیات اور شراب دے کر استحصال
مقدمے کے مطابق واقعات کا آغاز 2022 میں ہوا جب مصطفیٰ اقبال کی رائل میں دو کم عمر لڑکیوں سے ملاقات ہوئی اور وہ انہیں اپنے گھر لے گیا۔
بعد میں ضیاء اللہ بادشاہ اور محمد ارشد بھی وہاں پہنچے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ رات کے دوران لڑکیوں کو بھنگ اور ووڈکا دی گئی۔
اس کے بعد تینوں افراد کا ان لڑکیوں سے رابطہ جاری رہا اور آنے والے ہفتوں کے دوران انہیں بار بار جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
15 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ
36 سالہ محمد ارشد کو 19 سال قید جبکہ 25 سالہ ضیاء اللہ بادشاہ کو 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
دونوں کو ایک 15 سالہ لڑکی کے ساتھ ریپ اور لڑکیوں کو جنسی استحصال کیلئے اسمگل کرنے کے جرائم میں سزا دی گئی۔
61 سالہ جسوندر سنگھ بھی بعد میں اس گروہ کے ساتھ شامل ہوگیا۔ مقدمے کے مطابق وہ لڑکیوں کو مختلف مقامات پر لے جاتا اور انہیں بھنگ فراہم کرتا تھا۔
بعد میں وہ جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کو لندن بھی لے گیا، جس کے بعد ایک متعلقہ شخص نے پولیس سے رابطہ کیا۔
سنگھ کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
تیسری لڑکی کو تین ماہ تک نشانہ بنایا گیا
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک تیسری کم عمر لڑکی، جو منشیات خریدنا چاہتی تھی، مصطفیٰ اقبال کے رابطے میں آئی۔
مصطفیٰ اقبال نے تقریباً تین ماہ کے عرصے میں اس لڑکی کو متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا۔
53 سالہ سارہ گرے نے منشیات کے بدلے مصطفیٰ اقبال کو اپنا گھر استعمال کرنے دیا، جہاں اس کم عمر لڑکی کا جنسی استحصال کیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گرے نے بعد میں ڈی این اے شواہد مٹانے کیلئے صفائی کرنے کی بھی کوشش کی۔
اسے 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
موبائل فون کے پیغامات اہم ثبوت بن گئے
تحقیقات کے دوران ملزمان کے اپنے موبائل فونز سے حاصل کیے گئے پیغامات بھی ان کے خلاف اہم ثبوت ثابت ہوئے۔
ایک الگ ویڈیو ریکارڈنگ میں مصطفیٰ اقبال کو متاثرہ لڑکیوں میں سے ایک سے یہ کہتے سنا گیا کہ وہ اس سے ایسی جگہ ملے جہاں کیمرے میں نظر نہ آئے۔
نارتھ ویلز پولیس کی تحقیقات طویل عرصے تک جاری رہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے کم عمر لڑکیوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے قابو کرنے کی کوشش کی۔
نارتھ ویلز پولیس کی ابتدائی تحقیقات بھی تین کم عمر لڑکیوں کی جانب سے اپریل 2022 سے مارچ 2024 کے درمیان رائل اور گردونواح میں پیش آنے والے واقعات کی شکایات پر مرکوز تھیں۔
متاثرہ لڑکیوں کی ہمت کو خراج تحسین
کراؤن پراسیکیوشن سروس کی لوئیزا رابرٹسن نے کہا کہ مصطفیٰ اقبال، محمد ارشد اور ضیاء اللہ بادشاہ نے شراب اور منشیات کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کا جنسی استحصال کیا، جبکہ جسوندر سنگھ اور سارہ گرے بھی ان کمزور لڑکیوں کے استحصال میں شریک رہے۔
انہوں نے متاثرہ لڑکیوں کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے آنے اور بیان دینے کے باعث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانا ممکن ہوا۔
جج سائمن ملز نے بھی متاثرہ لڑکیوں کی ہمت کو خراج تحسین پیش کیا۔
جج نے نارتھ ویلز پولیس پر براہ راست تنقید نہیں کی، تاہم اس بات کا جائزہ لینے کیلئے نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا کہ ان افراد کے خلاف پہلے کارروائی کیوں نہیں ہوسکی۔
مقدمے کے بعد اب بچوں کے تحفظ سے متعلق باقاعدہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔
