تکبیر نیوز (نیویارک): امریکی شہر نیویارک میں سیوریج اور برساتی پانی کی نکاسی کے نظام میں داخل ہوکر مبینہ طور پر سونا اور دیگر قیمتی اشیا تلاش کرنے والے دو 25 سالہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گرفتار افراد کی شناخت کیون روڈریگز اور سیموئل ریورون کے نام سے ہوئی ہے، جن پر مبینہ طور پر ممنوعہ مقامات میں داخل ہونے اور سازش سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کو شبہ ہے کہ دونوں افراد نیویارک کے زیرِ زمین سیوریج اور برساتی نالوں میں ایسی قیمتی اشیا تلاش کرتے تھے جو بارش یا پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ کر وہاں پہنچ جاتی ہیں۔
’ہم سیوریج میں سونا اور قیمتی چیزیں تلاش کرتے ہیں‘
رپورٹ کے مطابق سیموئل ریورون نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ وہ سیوریج میں جاکر ایسی قیمتی اشیا تلاش کرتے ہیں جو برساتی نالوں یا زیرِ زمین نظام میں پھنس جاتی ہیں۔
ان میں سونا یا کوئی دوسری قیمتی چیز شامل ہوسکتی ہے۔
دونوں افراد کو جمعہ کے روز نیویارک پولیس نے گرفتار کیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ان پر عائد الزامات ایسے تھے جن میں ضمانت کی رقم مقرر نہیں کی گئی۔ ریورون کو نگرانی میں رہائی دی گئی جبکہ روڈریگز کو ذاتی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
دونوں کے خلاف الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔
اقوام متحدہ اجلاس کے دوران مین ہول سے نکلتے افراد
یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایک روز قبل مین ہیٹن کے اپر ایسٹ سائیڈ میں تین افراد کو ایک مین ہول سے باہر نکلتے دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
واقعہ بدھ کی صبح تقریباً 4 بج کر 35 منٹ پر پارک ایونیو اور ایسٹ 61 اسٹریٹ کے قریب پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق تین افراد زیرِ زمین سیوریج نظام سے باہر نکلنے کے بعد پارک ایونیو کی جانب چلے گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جاری تھی، جس کے باعث علاقے میں پہلے ہی سخت حفاظتی انتظامات موجود تھے۔
پولیس نے احتیاطی طور پر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر علاقے میں اضافی سکیورٹی تلاشی بھی کی۔
پولیس کو دہشت گردی سے متعلق شواہد نہیں ملے
نیویارک پولیس کے مطابق یہ واقعہ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے ایسے دیگر واقعات سے مماثلت رکھتا ہے جن میں لوگ طوفان یا شدید بارش کے بعد زیرِ زمین نالوں میں جاکر قیمتی اشیا اور دھات تلاش کرتے ہیں۔
حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات میں ان واقعات کو کسی دہشت گردی کی سرگرمی سے منسلک نہیں کیا گیا۔
تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور مقام کی حساسیت کے باعث پولیس نے اضافی حفاظتی اقدامات کیے۔
پہلے بھی مین ہولز سے نکلتے افراد کی ویڈیوز سامنے آچکیں
حالیہ مہینوں کے دوران نیویارک کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے مین ہولز میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اگست میں میڈیسن اسکوائر گارڈن کے قریب تین افراد کے مین ہول سے نکلنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کی تھیں۔
اس سے قبل بروکلین اور کوئنز میں بھی اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر ایسے افراد کیلئے مزاحیہ طور پر ’مول پیپل‘ یعنی زیرِ زمین رہنے والے لوگ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات میں بنیادی شبہ یہی ہے کہ لوگ زیرِ زمین نالوں میں بہہ کر آنے والی قیمتی اشیا یا دھاتیں تلاش کرنے کیلئے داخل ہوتے ہیں۔
