تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ سے ہزاروں چوری شدہ موبائل فون چین اسمگل کرنے والے ملک کے سب سے بڑے موبائل فون اسمگلنگ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک نے 2024 اور 2025 کے دوران 40 ہزار تک چوری شدہ موبائل فون برطانیہ سے چین بھجوائے، جن میں زیادہ تر آئی فون تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس عرصے کے دوران لندن میں چوری ہونے والے تمام موبائل فونز کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے۔
تحقیقات کے دوران 55 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے 5 ہزار سے زائد موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے۔
تین افراد کو ساڑھے 24 سال قید
ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں جج ایڈم ہڈلسٹن نے 35 سالہ امیر خادی خیل کو ساڑھے 9 سال، 33 سالہ عصمت میاخیل کو 9 سال جبکہ 30 سالہ منصور محمد کو ساڑھے 6 سال قید کی سزا سنائی۔
تینوں نے چوری شدہ سامان رکھنے اور منظم جرائم پیشہ گروہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی سازش کا جرم قبول کیا تھا۔
امیر خادی خیل اور عصمت میاخیل نے چوری شدہ سامان ملک سے باہر منتقل کرنے کی سازش کا جرم بھی قبول کیا۔
جج نے قرار دیا کہ جرائم مالی اعتبار سے انتہائی بڑے پیمانے پر کیے گئے جبکہ پورا نیٹ ورک نہایت منظم اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کررہا تھا۔
ایک چوری شدہ فون نے پورا نیٹ ورک پکڑوا دیا
اس بڑے نیٹ ورک کا سراغ دسمبر 2024 میں اس وقت ملا جب ایک شخص نے اپنا چوری شدہ موبائل فون تلاش کرتے ہوئے اسے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ڈی ایچ ایل کے ایک مرکز تک پہنچا دیا۔
اس کی اطلاع پر ایسے ڈبوں کی تلاشی لی گئی جو ہانگ کانگ بھیجے جانے والے تھے۔
پولیس کو ان ڈبوں سے 865 اسمارٹ فونز ملے جو موبائل اور وائی فائی سگنلز روکنے کیلئے ایلومینیم فوائل میں لپیٹے گئے تھے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ تقریباً تمام فون چوری شدہ تھے۔
اس انکشاف کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے آپریشن ایکوسٹیپ شروع کیا۔
سڑکوں پر موبائل چوروں کو فی فون 300 پاؤنڈ تک ادائیگی
تحقیقات میں موبائل فون چوروں، چوری کا سامان وصول کرنے والوں اور اسے بیرون ملک بھیجنے والوں پر مشتمل ایک مکمل سلسلہ سامنے آیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سڑکوں پر موبائل چوری کرنے والوں کو ایک فون کے بدلے 300 پاؤنڈ تک ادا کیے جاتے تھے۔
بعض چوری شدہ موبائل چین پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر 5 ہزار امریکی ڈالر تک میں فروخت ہوتے تھے۔
استغاثہ کے مطابق نیٹ ورک نے ہزاروں قیمتی موبائل فون، جن میں زیادہ تر آئی فون تھے، برطانیہ سے باہر منتقل کیے۔
مشرقی لندن کی دکان کے تہہ خانے سے فون اور ہزاروں پاؤنڈ برآمد
ستمبر 2025 میں پولیس نے مشرقی لندن کی لی برج روڈ پر واقع روشن ڈرائی فروٹس اینڈ نٹس نامی دکان کی تلاشی لی۔
استغاثہ کے مطابق یہ مقام امیر خادی خیل اور عصمت میاخیل سے منسلک موبائل فون ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال ہورہا تھا۔
دکان میں موجود ایک خفیہ راستہ تہہ خانے کی طرف جاتا تھا، جہاں پولیس کو ایلومینیم فوائل میں لپٹے موبائل فون اور 44 ہزار 665 پاؤنڈ نقد ملے۔
گرفتاری کے وقت خادی خیل اور میاخیل دونوں کے گلے میں ایسی ڈیوائس لگی ہوئی تھی جس سے موبائل فون کی سم نکالی جاسکتی ہے۔
چوری شدہ فون فراہم کرنے والوں کو لاکھوں پاؤنڈ ادائیگی
عصمت میاخیل کے موبائل فون سے دسمبر 2024 سے مئی 2025 کے درمیان ایسے پیغامات بھی ملے جن میں چوری شدہ فون فراہم کرنے والے افراد کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 43 ہزار 50 پاؤنڈ کی ادائیگیوں کا ذکر تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ منصور محمد نیٹ ورک کے درمیانی درجے میں کام کرتا تھا۔
اس کا کام چوروں سے موبائل فون اکٹھے کرکے انہیں منافع کے ساتھ خادی خیل اور میاخیل تک پہنچانا تھا۔
منصور محمد کو ستمبر 2025 میں ایک ٹویوٹا گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ گاڑی سے چھ فیراڈے بیگز، ایلومینیم فوائل کے سات رول اور موبائل فون سے متعلق سامان ملا۔
فیراڈے بیگز موبائل سمیت الیکٹرانک آلات کے ریڈیو اور دیگر برقی مقناطیسی سگنلز کو روکنے کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔
’موبائل چوری صرف مالی نقصان نہیں‘
کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سائرہ پائیک نے کہا کہ موبائل فون کی چوری صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتی بلکہ متاثرین اپنی ذاتی معلومات، قیمتی تصاویر، یادیں اور احساسِ تحفظ بھی کھو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تینوں افراد ایک ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے اہم حصے تھے جو لندن بھر میں لوگوں کے چوری ہونے والے موبائل فونز سے منافع کما رہا تھا۔
استغاثہ کے مطابق پولیس اور پراسیکیوشن کی جانب سے اکٹھے کیے گئے شواہد اتنے مضبوط تھے کہ تینوں افراد نے مقدمہ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل اپنے جرائم قبول کرلیے۔
