تکبیر نیوز (ایریزونا): امریکی ریاست ایریزونا میں قتل کے ایک مقدمے کی سزا سنانے کی کارروائی کے دوران ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی، جب مقتول کے 55 سالہ سسر البرٹو اونٹیویروس سانچیز نے اچانک 33 سالہ مجرم ایبل یوریبے پر حملہ کردیا۔
واقعے کی عدالتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ البرٹو اونٹیویروس سانچیز متاثرہ خاندان کی جانب سے اپنا بیان مکمل کرنے کے بعد روسٹرم سے واپس جارہے تھے، تاہم اچانک مڑ کر دفاعی وکلا کی میز کی جانب بڑھے اور وہاں ہتھکڑیوں اور پاؤں کی زنجیروں میں موجود ایبل یوریبے کو متعدد مرتبہ ہاتھ سے مارا۔
عدالت میں موجود اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے اور صورتحال پر قابو پالیا۔
مقتول امریکی فوج میں کیپٹن تھا
مقدمہ 27 سالہ امریکی فوجی کیپٹن ڈیوڈ نوی داد پارا کے قتل سے متعلق تھا۔
پولیس کے مطابق ڈیوڈ کی لاش 17 دسمبر 2022 کو فینکس میں ملی تھی اور اسے گولی ماری گئی تھی۔
اسی روز پولیس کو ایک ایسے شخص کی گمشدگی کی اطلاع بھی ملی تھی جو اپنی فروخت کیلئے پیش کی گئی گاڑی کسی ممکنہ خریدار کو آزمائشی طور پر چلانے کیلئے لے کر گیا تھا لیکن واپس نہیں آیا۔
بعد میں پولیس نے تصدیق کی کہ گمشدہ شخص ڈیوڈ نوی داد پارا ہی تھا۔
ایبل یوریبے کو اسی روز حراست میں لے لیا گیا تھا اور بعد میں اس نے قتل کا جرم قبول کرلیا۔
’اسے زندگی بھر جیل میں رکھا جائے‘
عدالت میں اپنے بیان کے دوران البرٹو اونٹیویروس سانچیز نے جج سے درخواست کی تھی کہ ان کے داماد کے قاتل کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔
انہوں نے عدالت سے کہا کہ ان کے داماد کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر انصاف کا تقاضا ہے کہ ذمہ دار شخص کو زندگی بھر جیل میں رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق بیان مکمل کرنے کے بعد جب وہ اپنی نشست کی طرف لوٹے تو انہوں نے مبینہ طور پر یوریبے کو ہنستے ہوئے دیکھا، جس کے بعد وہ غصے میں اس کی طرف بڑھے اور حملہ کردیا۔
جج نے کہا، عدالت میں تشدد برداشت نہیں ہوگا
واقعے کے بعد جج نے مقتول کے سسر کے جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی قسم کا تشدد برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
جج نے کہا کہ وہ اس لمحے خاندان کے جذبات کی شدت کا تصور کرسکتے ہیں، تاہم عدالت میں اس طرح کا رویہ قابل قبول نہیں۔
البرٹو اونٹیویروس سانچیز کو واقعے کے بعد رہا کردیا گیا، تاہم رپورٹ کے مطابق انہیں سنگین حملے سمیت الزامات کا سامنا ہے۔
یہ الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔
قاتل کو عمر قید
عدالت میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سزا سنانے کی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق عدالت نے ایبل یوریبے کو عمر قید کی سزا سنادی، تاہم اسے مستقبل میں قانونی شرائط کے تحت پیرول کیلئے درخواست دینے کا امکان حاصل ہوگا۔
قتل کے تقریباً پانچ سال بعد ہونے والی سزا کی سماعت مقتول کے خاندان کیلئے انتہائی جذباتی رہی، جبکہ عدالت کے اندر ہونے والے حملے کے بعد مقتول کے سسر کو بھی الگ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
