تکبیر نیوز (کانز): وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے جیل سے رہائی کے بعد اپنی پہلی بڑی عوامی تقریبات میں سے ایک کے دوران غزہ جنگ کی جانب توجہ مبذول کرانے کیلئے ایسی سفید شرٹ پہن کر شرکت کی جس پر پانچ سال یا اس سے کم عمر 4,986 فلسطینی بچوں کے نام درج تھے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں مارے گئے۔
اسانج نے یہ شرٹ فرانس میں منعقدہ 78ویں کانز فلم فیسٹیول میں اپنی زندگی اور طویل قانونی جدوجہد پر بننے والی دستاویزی فلم دی سکس بلین ڈالر مین کی تشہیر کے موقع پر پہنی۔
کانز فلم فیسٹیول کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یوجین جاریکی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ دستاویزی فلم 2025 کے میلے کی خصوصی نمائش میں شامل تھی۔
شرٹ پر ہزاروں فلسطینی بچوں کے نام
فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسانج کی سفید شرٹ پر غزہ میں مارے جانے والے 4,986 فلسطینی بچوں کے نام درج تھے جن کی عمریں پانچ سال یا اس سے کم بتائی گئی تھیں۔
اسانج کی پشت پر ایک الگ پیغام بھی نمایاں تھا جس میں “Stop Israel” لکھا گیا تھا۔
ان کی اہلیہ اسٹیلا اسانج بھی ان کے ساتھ موجود تھیں اور انہوں نے ایک بیج پہن رکھا تھا جس پر قتل روکنے کا پیغام درج تھا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب غزہ جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر دنیا بھر میں احتجاج اور سیاسی بحث جاری تھی۔
پانچ سال بیلمارش جیل میں گزارے
جولین اسانج نے لندن کی انتہائی سخت سکیورٹی والی بیلمارش جیل میں تقریباً پانچ سال گزارے، جہاں وہ امریکا حوالگی کے خلاف قانونی جنگ لڑتے رہے۔
امریکی حکام وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی فوجی اور سفارتی دستاویزات شائع کیے جانے کے معاملے میں ان کی حوالگی چاہتے تھے۔
2024 میں امریکی حکومت کے ساتھ ایک قانونی معاہدے کے بعد اسانج نے امریکی عدالت میں ایک الزام قبول کیا، جس کے بعد انہیں رہائی ملی اور وہ آسٹریلیا واپس چلے گئے۔
کانز فلم فیسٹیول کے سرکاری تعارف کے مطابق دی سکس بلین ڈالر مین اسانج کی قانونی جدوجہد، وکی لیکس کے ریکارڈ اور آزادیٔ صحافت سے متعلق وسیع تر بحث کو موضوع بناتی ہے۔
دوبارہ سیاسی سرگرمی کا امکان
اسانج کی اہلیہ اسٹیلا اسانج نے کانز میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے شوہر طویل عرصے کی قید اور قانونی جدوجہد کے اثرات سے صحت یاب ہورہے ہیں۔
ان کے مطابق جولین اسانج دنیا میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق فکرمند ہیں اور مکمل صحت یابی کے بعد دوبارہ کسی شکل میں سیاسی سرگرمی اختیار کرنے پر غور کررہے ہیں۔
اسانج نے خود کانز میں اس حوالے سے کوئی تفصیلی عوامی بیان نہیں دیا تھا۔
احتجاج پر مختلف ردعمل
اسانج کے لباس اور غزہ سے متعلق پیغام پر سماجی ذرائع ابلاغ پر مختلف آرا سامنے آئیں۔
ان کے حامیوں نے اسے غزہ میں فلسطینی شہریوں اور بچوں کی ہلاکتوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب بعض ناقدین نے کہا کہ اسانج کو حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کا معاملہ بھی اجاگر کرنا چاہیے تھا، جبکہ بعض صارفین نے سوڈان اور کانگو سمیت دیگر جنگ زدہ خطوں میں بچوں کی ہلاکتوں کی جانب توجہ دلائی۔
یہ ردعمل مختلف صارفین اور ناقدین کی آرا تھیں، نہ کہ اسانج یا کانز فلم فیسٹیول کا مؤقف۔
وکی لیکس سے عالمی شہرت
جولین اسانج 2010 میں اس وقت عالمی سطح پر نمایاں ہوئے جب وکی لیکس نے بڑی تعداد میں خفیہ امریکی فوجی اور سفارتی دستاویزات شائع کیں۔
2019 میں ایکواڈور کی جانب سے سیاسی پناہ ختم کیے جانے کے بعد لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے انہیں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد امریکا حوالگی کے خلاف کئی سال طویل قانونی جنگ شروع ہوئی۔
2024 میں امریکی حکام کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں یہ قانونی جنگ ختم ہوئی اور اسانج کو رہائی مل گئی۔
