تکبیر نیوز (برمنگھم): برطانیہ میں ذہنی طور پر کمزور 28 سالہ شخص روبن بلاؤنٹ کو کئی ماہ تک مسلسل تشدد، بھوک اور تضحیک کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتارنے والے برمنگھم کے ایک جوڑے کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
58 سالہ کینتھ نیوٹن اور اس کی 64 سالہ ساتھی میلنی جیمز کو اسٹافورڈ کراؤن کورٹ کی جیوری نے جولائی میں روبن بلاؤنٹ کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔
عدالت نے دونوں کو عمر قید سناتے ہوئے حکم دیا کہ وہ رہائی کیلئے زیر غور آنے سے پہلے کم از کم 21، 21 سال جیل میں گزاریں گے۔
سزا سنائے جانے کے موقع پر عدالت کی عوامی گیلری سے ملزمان کیلئے شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا۔
موت کے وقت وزن صرف 40 کلو رہ گیا تھا
عدالت کو بتایا گیا کہ نومبر 2022 میں موت کے وقت روبن کا وزن صرف 40 کلوگرام رہ گیا تھا۔ وہ شدید غذائی قلت اور جسم میں پانی کی انتہائی کمی کا شکار تھا۔
روبن، کینتھ نیوٹن کا سوتیلا بھائی تھا اور دونوں ملزمان اس کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے، لیکن عدالت کے مطابق انہوں نے اسی اعتماد اور ذمہ داری کا سنگین غلط استعمال کیا۔
استغاثہ کے مطابق روبن کو طویل عرصے تک کھڑا رہنے پر مجبور کیا جاتا، کوڑے دان سے کھانے کے بچے ہوئے ٹکڑے کھلائے جاتے اور بعض اوقات اسے اپنے ہی پیشاب میں پڑا رہنے دیا جاتا تھا۔
ملزمان روبن کی ذہنی صلاحیت اور ظاہری حالت کا مذاق بھی اڑاتے اور اس کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک کی ویڈیوز بناتے تھے۔
پسلیوں میں 50 فریکچر
اسٹافورڈ شائر پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ روبن کی پسلیوں میں مجموعی طور پر 50 فریکچر تھے، جن میں سے 47 چوٹیں موت سے چند ہفتے قبل پہنچائی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی فریکچر، جسم پر جلنے کے نشانات، زخم اور خراشیں موجود تھیں۔
روبن کے بیڈروم کی حالت بھی انتہائی خراب پائی گئی اور پولیس کے مطابق ٹام ورتھ میں واقع گھر کے کمرے میں پھپھوندی سمیت رہائش کے ناقابل قبول حالات موجود تھے۔
طبی امداد ملنے تک حالت انتہائی خراب ہوچکی تھی
عدالت کو بتایا گیا کہ روبن کی حالت بگڑنے کے باوجود دونوں نے بروقت طبی امداد حاصل نہیں کی۔
بالآخر اسپتال لے جانے پر روبن کو دل کا دورہ پڑا۔ ڈاکٹروں نے اسے دوبارہ ہوش میں لانے کی کوشش کی اور دل کی دھڑکن بحال ہوگئی، تاہم اس کی حالت انتہائی تشویشناک رہی۔
طبی معائنے میں شدید نمونیا، سنگین انفیکشن، پسلیوں اور ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر سمیت متعدد زخم سامنے آئے۔
روبن تین دن تک انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد 30 نومبر 2022 کو دم توڑ گیا۔
’درد میں تھا، لیکن آپ نے کچھ نہیں کیا‘
سزا سناتے ہوئے جسٹس جیفورڈ نے کہا کہ روبن اپنی موت سے تقریباً دو ماہ قبل گھر سے باہر ہی نہیں نکلا تھا اور عملی طور پر لوگوں کی نظروں سے غائب ہوچکا تھا۔
عدالت میں ملزمان کی بنائی گئی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں روبن انتہائی کمزور اور لاغر حالت میں نظر آرہا تھا۔
جج نے دونوں مجرموں سے کہا کہ انہوں نے روبن کی انتہائی خراب جسمانی حالت کا مذاق اڑایا، اسے گالیاں دیں اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ہنستے رہے، جبکہ وہ اپنا دفاع کرنے یا وہاں سے چلے جانے کے قابل بھی نہیں تھا۔
جج کے مطابق روبن شدید اور مسلسل درد میں مبتلا تھا، لیکن اس کی مدد کرنے کے بجائے اس پر بار بار تشدد کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں نے مل کر روبن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اگر ایک حملہ کررہا تھا تو دوسرا اس کی حوصلہ افزائی کررہا تھا۔
سوشل سروسز سے بھی جھوٹ بولنے کا انکشاف
عدالت کے مطابق میلنی جیمز نے کونسل، سوشل سروسز اور دیگر افراد کے سامنے روبن کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے۔
جج نے کہا کہ روبن کو جارحانہ اور پرتشدد ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے بارے میں انتہائی سنگین جھوٹے الزامات بھی لگائے گئے۔
عدالت کے مطابق اس رویے کی ایک ممکنہ وجہ گھر کے اندر روبن کے ساتھ ہونے والے اصل سلوک کو چھپانا ہوسکتی تھی۔
والدہ کا جذباتی بیان
روبن کی والدہ جینیٹ بلاؤنٹ نے عدالت کیلئے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا بیٹا انتہائی کمزور تھا اور اسے محبت، عزت اور زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کو یقین تھا کہ نیوٹن اور جیمز روبن سے محبت کرتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں گے۔
ان کے مطابق روبن صرف ایک متاثرہ شخص نہیں بلکہ ایک بیٹا، بھائی، دوست اور اپنی کمیونٹی میں بہت سے لوگوں کا پیارا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی سزا ان کے بیٹے کو واپس نہیں لاسکتی اور خاندان کو اب زندگی بھر اس صدمے اور دکھ کے ساتھ رہنا ہوگا۔
عدالت نے کینتھ نیوٹن اور میلنی جیمز دونوں کو عمر قید سناتے ہوئے کم از کم 21 سال قید کی مدت مقرر کردی۔
