تکبیر نیوز (مڈلزبرا):
اے 66 پر پیش آنے والے خوفناک حادثے سے پہلے کے واقعات میں نیا انکشاف سامنے آگیا، حادثے میں ہلاک ہونے والے 17 سالہ نوجوان کول ورتھی کے والد کا گھر بھی ایک گاڑی سے ٹکرایا گیا تھا۔ پولیس کو شہر میں دو گاڑیوں کے خطرناک انداز میں چلائے جانے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی تھیں جبکہ ایک وولوو گاڑی کی جانب سے مختلف املاک کو ٹکر مارنے کی بھی اطلاع دی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق کول ورتھی کے والد انہی گھروں میں سے ایک میں رہتے تھے جسے گاڑی نے ٹکر ماری۔ گھر کے سامنے والے حصے کو نقصان پہنچا جبکہ عمارت کی کچھ کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ کول ورتھی کے والد کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث تھے۔
واقعے کے بعد کول ورتھی اپنے چار دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فولکس ویگن پاسات میں روانہ ہوا۔ گاڑی بعد میں اے 66 پر غلط سمت میں داخل ہوگئی اور سامنے سے آنے والی کلیولینڈ پولیس کی گاڑی سے خوفناک تصادم ہوگیا۔
اس تصادم کے نتیجے میں پولیس کے دو اہلکار پی سی میتھیو بلیڈز، 37 سال، اور پی سی ٹام کلاف، 38 سال بھی ہلاک ہوگئے۔
کول ورتھی کے ساتھ گاڑی میں 17 سالہ تھیو رے، 18 سالہ مکائی سیڈنگٹن اور 23 سالہ مائیکل رابرٹ کیہل اور جیکب ماتوسیئک بھی موجود تھے۔ یہ پانچوں نوجوان بھی حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اطلاعات کے مطابق کول ورتھی اور دیگر نوجوانوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد پاسات میں سفر شروع کیا تھا۔ اس کے بعد گاڑی کے غلط سمت میں اے 66 پر جانے سے یہ انتہائی تباہ کن حادثہ پیش آیا۔
کلیولینڈ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں اب تک 17 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں کی عمریں 16 سے 61 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں اور ان سے مختلف الزامات کے تحت پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی موت کی عدالتی تحقیقات بھی جمعرات کو ٹیز سائیڈ مجسٹریٹس عدالت میں شروع ہونے والی ہیں، جہاں واقعے سے متعلق ابتدائی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب ہلاک ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی یاد میں قائم کی گئی امدادی مہم میں اب تک 8 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع ہوچکی ہے۔ دونوں اہلکاروں کی ہلاکت پر ساتھی پولیس افسران، اہل خانہ اور مقامی لوگوں کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا جارہا ہے۔
اے 66 کا یہ المناک حادثہ پولیس کی کارروائی، خطرناک ڈرائیونگ اور اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے تفتیش کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
