نوٹنگھم: برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں چار ماہ کی بچی کی موت کے بعد والدین نے اسپتال میں علاج کے دوران مبینہ غفلت پر سوالات اٹھاتے ہوئے انصاف اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہ نور قیصر شاہ 6 جون 2024 کو ڈربی رائل ہسپتال میں پیدا ہوئیں اور پیدائشی جینیاتی بیماری کے باعث پیچیدہ طبی مسائل کا شکار تھیں۔ پیدائش کے چند ہی ہفتوں میں ان کے کئی بڑے آپریشن کیے گئے، تاہم بعد ازاں انہیں کوئینز میڈیکل سینٹر (QMC) منتقل کیا گیا جہاں طویل علاج کے بعد 10 اکتوبر 2024 کو ان کا انتقال ہو گیا۔
بچی کے والدین سید شاہ اور ماریا شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی دیکھ بھال کے دوران متعدد سنگین غلطیاں کی گئیں، جن کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
خاندان کی نمائندگی کرنے والی طبی غفلت کی ماہر وکیل ربیکا کاہل نے کہا کہ ان کے مؤکلوں کے مطابق بچی کے علاج میں "غلطیوں کا ایک سلسلہ” سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا:
- بچی میں سیپسس (شدید انفیکشن) کی علامات بروقت پہچانی گئیں یا نہیں۔
- ہنگامی ادویات، جن میں ہائیڈروکارٹیزون اور اینٹی بائیوٹکس شامل ہیں، مناسب وقت پر دی گئیں یا نہیں۔
- خون میں شوگر کی سطح کو درست انداز میں کنٹرول کیا گیا یا نہیں۔
وکیل کے مطابق خاندان کو خدشہ ہے کہ بروقت اور مناسب علاج فراہم کیا جاتا تو دل کا دورہ، دماغ کو آکسیجن کی شدید کمی اور بعد ازاں ہونے والی موت کو روکا جا سکتا تھا۔
نوٹنگھم کورونر کورٹ میں یکم جولائی سے اس واقعے کی انکوائری شروع ہو رہی ہے، جو کئی روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
بچی کے والد سید شاہ نے کہا کہ بیٹی کی موت نے ان کے پورے خاندان کو شدید ذہنی صدمہ پہنچایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا آج بھی اپنی بہن کو یاد کرتا ہے اور اس کی ذہنی صحت متاثر ہوئی ہے، جبکہ وہ خود اور ان کی اہلیہ بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب Nottingham University Hospitals NHS Trust کی چیف نرس ٹریسی پلچر نے خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال انکوائری میں مکمل تعاون کرے گا تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
