تکبیر نیوز، ڈبلن: آئرلینڈ میں ایک پب منیجر کے بہیمانہ قتل میں ملوث برطانوی شہری کی عمر قید کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے، جس کے بعد اس کی سزا برقرار رہے گی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق لیورپول سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ ڈیوڈ ہنٹر نے ایک ساتھی کے ہمراہ 2016 میں ڈبلن کے ایک پب میں داخل ہو کر 35 سالہ مائیکل بار کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے نقاب اور مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔
استغاثہ کے مطابق مقتول مائیکل بار اس رات پب میں ایک تقریب میں شریک تھے جب مسلح افراد اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ مقتول کو متعدد گولیاں لگیں جن میں سے کئی سر پر لگیں اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے حملہ آوروں کی فرار ہونے والی گاڑی برآمد کر لی تھی جسے آگ لگا دی گئی تھی۔ تاہم گاڑی مکمل طور پر جلنے سے پہلے ہی حکام موقع پر پہنچ گئے اور وہاں سے اسلحہ، موبائل فون، نقاب اور دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے گئے۔
تفتیش کے دوران ملزم کا جینیاتی مواد نقابوں سے برآمد ہوا جس نے اسے قتل سے جوڑ دیا۔ عدالت میں ڈیوڈ ہنٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ قتل کے وقت ایک موسیقی پروگرام میں شرکت کیلئے آئرلینڈ آیا ہوا تھا، تاہم اس کا مؤقف شواہد سے مطابقت نہ رکھ سکا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی جانب سے پیش کی گئی وضاحتیں ناقابلِ یقین اور حقیقت کے منافی ہیں جبکہ شواہد واضح طور پر اس کے جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔
بعد ازاں ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا گیا، تاہم اپیل عدالت نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ابتدائی عدالت نے شواہد کا مکمل اور درست جائزہ لیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جینیاتی شواہد، حالات و واقعات اور دیگر ثبوت ملزم کے جرم کو ہر شک سے بالاتر ثابت کرتے ہیں، اس لیے سزا برقرار رکھی جاتی ہے۔
فیصلے کے بعد ڈیوڈ ہنٹر کی عمر قید کی سزا بدستور برقرار رہے گی اور وہ جیل میں ہی اپنی باقی زندگی گزارے گا۔
