تکبیر نیوز، ڈڈلی: برطانیہ میں ایک دل دہلا دینے والے قتل کیس نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جہاں 19 سالہ نوجوان ماں للی وائٹ ہاؤس کو قتل کرنے والے شخص کو عدالت نے مجرم قرار دے دیا۔ مقتولہ چند گھنٹے قبل ہی اپنے نومولود بچے کی اسپتال میں عیادت کرکے نکلی تھی، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ ملنے جا رہی ہے، وہی اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ للی وائٹ ہاؤس کی ملاقات پہلی بار اس وقت محمد عظیم سے ہوئی تھی جب وہ صرف 16 سال کی تھیں جبکہ محمد عظیم کی عمر 39 برس تھی۔ پولیس کے مطابق دونوں کی ملاقات سڑک پر اتفاقاً ہوئی تھی جہاں محمد عظیم نے گفتگو کے بعد لڑکی سے رابطہ نمبر حاصل کیا اور بعد ازاں دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوگیا۔
تحقیقات کے مطابق عمر کے بڑے فرق کے باعث اس تعلق میں طاقت اور اثر و رسوخ کا واضح عدم توازن موجود تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلق جاری رہا، تاہم گزشتہ سال نومبر میں یہ رشتہ ایک خوفناک انجام تک پہنچ گیا۔
پولیس کے مطابق قتل والے روز للی اپنے نومولود بچے کی اسپتال میں ملاقات کے بعد محمد عظیم کے ساتھ روانہ ہوئی۔ دونوں ایک گاڑی میں اولڈبری کے علاقے پہنچے جہاں کسی بات پر جھگڑا شروع ہوگیا۔ جھگڑے کے دوران للی گاڑی سے باہر نکل آئیں، لیکن محمد عظیم نے انہیں جانے دینے کے بجائے گاڑی ان کی طرف بڑھا دی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزم نے پہلے گاڑی کے ذریعے للی کو دھکیلنا شروع کیا اور بعد ازاں انہیں ایک کھمبے کے ساتھ زور سے دے مارا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شدید ٹکر کے باعث للی موقع پر ہی یا چند لمحوں بعد دم توڑ گئیں۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد محمد عظیم نے اپنی حرکت چھپانے کیلئے مقتولہ کی لاش کو دوسری جگہ منتقل کیا اور ہنگامی نمبر پر کال کرکے جھوٹا دعویٰ کیا کہ کسی نامعلوم گاڑی نے للی کو ٹکر ماری اور فرار ہوگئی۔
تاہم پولیس کو ملزم کے بیان پر شبہ ہوا اور بعد ازاں مختلف مقامات سے حاصل ہونے والی نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ نے واقعے کی حقیقت آشکار کر دی۔ تفتیش کاروں نے للی کی اسپتال سے روانگی، بس کے سفر اور محمد عظیم کی گاڑی میں سوار ہونے تک کے تمام مناظر حاصل کر لیے، جنہوں نے ملزم کے دعوؤں کو جھوٹ ثابت کر دیا۔
عدالت میں محمد عظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ حادثہ غیر ارادی تھا، تاہم جیوری نے شواہد کی بنیاد پر اسے قتل کا مجرم قرار دے دیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گھریلو تشدد کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ اگرچہ مقتولہ نے اپنے تعلق کے دوران کبھی پولیس کو شکایت درج نہیں کرائی، تاہم شواہد سے ظاہر ہوا کہ وہ ایک ایسے تعلق میں تھیں جہاں طاقت کا توازن یکطرفہ تھا۔
للی وائٹ ہاؤس کے اہل خانہ نے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ کوئی بھی سزا ان کی بیٹی کو واپس نہیں لا سکتی، تاہم انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ انصاف فراہم کر دیا گیا ہے۔ خاندان کا کہنا تھا کہ صرف 19 برس کی عمر میں للی سے اس کی پوری زندگی، خواب اور مستقبل چھین لیا گیا۔
