تکبیر نیوز، لندن (برطانیہ): برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اقتدار چھوڑنے کی قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ رواں ہفتے اپنی رخصتی کے لیے باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان کر سکتے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور متعدد اہم شخصیات سے مشاورت کے بعد کیئر اسٹارمر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے لیے وزارتِ عظمیٰ پر برقرار رہنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے حالیہ دنوں میں کابینہ ارکان، ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مشیروں، مزدور تنظیموں کے رہنماؤں اور پارٹی کے اہم حامیوں سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر اس وقت اپنی اہلیہ وکٹوریہ کے ہمراہ سرکاری رہائش گاہ میں مستقبل کے حوالے سے غور کر رہے ہیں جبکہ لیبر پارٹی کے سینئر حلقوں کا خیال ہے کہ وہ پیر کے روز اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں واضح بیان دے سکتے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کے بجائے ایک منظم اور باوقار انداز میں اقتدار کی منتقلی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ سیاسی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ دوبارہ پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہیں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی کے دو سو سے زائد اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جو پارلیمانی پارٹی کی اکثریت سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کیئر اسٹارمر کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
برطانوی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں تو لیبر پارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ اینڈی برنہم کو اس دوڑ میں سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض دیگر سینئر رہنماؤں کے نام بھی زیر گردش ہیں۔
واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو تاریخی کامیابی دلائی تھی، تاہم بعد ازاں متعدد سیاسی تنازعات، پالیسی تبدیلیوں اور عوامی ناراضی کے باعث ان کی مقبولیت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی۔
