تکبیر نیوز، برمنگھم (برطانیہ): برطانیہ کے شہر برمنگھم میں نسل پرستی اور تارکین وطن مخالف بیانیے کے خلاف سینکڑوں افراد نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ شہر کے مرکز میں ہونے والے اس مظاہرے کے دوران پولیس نے 4 افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک دائیں بازو کے گروپ کے کارکنوں نے برمنگھم سٹی سینٹر میں ریلی نکالی، جس کے جواب میں بڑی تعداد میں شہری، سماجی کارکن، سیاسی رہنما اور مختلف برادریوں کے افراد وکٹوریہ اسکوائر میں جمع ہوئے اور نسل پرستی مخالف مظاہرہ کیا۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق دونوں گروہوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ دونوں مظاہروں میں مجموعی طور پر ایک ہزار کے قریب افراد شریک ہوئے۔

پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے دوران 3 خواتین اور ایک مرد کو گرفتار کیا گیا۔ دو خواتین کو پولیس اہلکار پر حملے کے شبے میں حراست میں لیا گیا جبکہ ایک اور خاتون پر پولیس اہلکار پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ ایک مرد کو پولیس کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک موقع پر چند مظاہرین نے پولیس کی قائم کردہ رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا اور دونوں گروہوں کو الگ رکھا تاکہ امن و امان برقرار رہے۔
مظاہرے کے دوران دائیں بازو کے گروپ کے حامی جھنڈے اٹھائے ہوئے نظر آئے جبکہ انہوں نے حکومت مخالف نعرے بھی لگائے۔ دوسری جانب نسل پرستی مخالف مظاہرین نے برمنگھم کی کثیر الثقافتی شناخت، مختلف قومیتوں کے باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے حق میں نعرے لگائے۔

ویسٹ مڈلینڈز کے میئر Richard Parker نے کہا کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کے لیے برمنگھم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہر کے رہائشی ایسے نظریات کی حمایت نہیں کرتے جو معاشرے میں تفریق پیدا کریں۔
مقامی سیاسی جماعتوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے بھی مشترکہ بیان میں کہا کہ برمنگھم کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے، جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد مل جل کر رہتے اور کام کرتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے، تاہم واقعے سے متعلق ویڈیوز اور شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
