تکبیر نیوز، مانچسٹر: برطانیہ میں مختلف سنگین جرائم میں ملوث متعدد خطرناک مجرموں کو عدالتوں نے سزائیں سنا دی ہیں، جن میں قتل، بچوں کے خلاف جرائم، خطرناک ڈرائیونگ، چوری اور جیل کے اندر قتل جیسے سنگین مقدمات شامل ہیں۔
اس ہفتے سب سے زیادہ توجہ ان تین قیدیوں کے مقدمے نے حاصل کی جنہوں نے جیل کے اندر ایک قیدی کو قتل کر دیا تھا۔ عدالت نے مارک فیلوز، ڈیوڈ ٹیلر اور لی نیول کو جرم ثابت ہونے پر عمر بھر قید کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کے مطابق تینوں نے جیل میں قید ایک شخص کو متعدد وار کرکے قتل کیا تھا۔
ایک اور لرزہ خیز مقدمے میں جیمی ورلے نامی شخص کو ایک کمسن بچے پریسٹن ڈیوی کے قتل اور بدترین جسمانی و جنسی تشدد کے جرم میں عمر بھر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کبھی بھی جیل سے رہائی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس مقدمے میں شریک ایک اور شخص جان میک گووان فیزاکرلی کو بھی 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ادھر ایک خطرناک ڈرائیور عمار عابد کو بھی سزا سنائی گئی جس نے پولیس سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران موٹر وے پر الٹی سمت گاڑی دوڑا کر متعدد افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ عدالت نے اسے خطرناک ڈرائیونگ کے جرم میں 38 ہفتوں کی قید کی سزا سنائی۔
اسی طرح ڈومینک ملر نامی شخص کو بھی جیل بھیج دیا گیا جس نے عدالت کی پابندی کے باوجود متعدد دکانوں سے چوری کی وارداتیں جاری رکھیں۔ عدالت نے بار بار قانون شکنی پر اسے 24 ہفتوں کی قید کا حکم دیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ برطانوی عدالتیں سنگین جرائم، خصوصاً قتل، بچوں کے خلاف جرائم اور عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے واقعات پر سخت موقف اختیار کر رہی ہیں۔
پولیس اور استغاثہ حکام نے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی متاثرہ خاندانوں کیلئے ایک اہم قدم ہے اور خطرناک مجرموں کو معاشرے سے دور رکھنا عوامی تحفظ کیلئے ضروری ہے۔
