تکبیر نیوز، برمنگھم: برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک معروف کاروباری شخصیت کو اپنی سابق محبوبہ پر تشدد، گلا دبانے اور مسلسل ہراساں کرنے کے جرم میں عدالت نے سزا سنا دی۔ متاثرہ خاتون نے اپنی زندگی کے اس دور کو "خوفناک فلم کے مناظر” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت خوف اور عدم تحفظ کا شکار رہی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق 37 سالہ شہزاد زمان کو اپنی سابقہ ساتھی کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ عدالت نے اسے دو سال قید کی معطل سزا سنائی جبکہ متاثرہ خاتون سے کسی بھی قسم کے رابطے پر 10 سالہ پابندی بھی عائد کر دی گئی۔
متاثرہ خاتون، جن کی شناخت قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی، نے بتایا کہ تعلق کے دوران ان کی زندگی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار رہی۔ ان کے مطابق ملزم حد سے زیادہ حسد اور کنٹرول کرنے کی عادت رکھتا تھا اور اس نے انہیں دوستوں اور سماجی روابط سے دور کر دیا تھا۔
خاتون نے بتایا کہ ان پر ہر وقت نگرانی رکھی جاتی تھی اور انہیں اپنی نقل و حرکت کی معلومات مسلسل فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقل خوف کی کیفیت میں زندگی گزار رہی تھیں اور ذہنی دباؤ کے باعث معمول کی زندگی بھی متاثر ہو گئی تھی۔
متاثرہ خاتون کے مطابق تشدد کے دوران انہیں شدید جسمانی چوٹیں آئیں جن میں ناک کی ہڈی ٹوٹنا، جسم پر نیل پڑنا اور کان کے پردے کو نقصان پہنچنا شامل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک موقع پر ملزم نے ان کا گلا اس حد تک دبایا کہ انہیں اپنی جان جانے کا یقین ہو گیا تھا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ ملزم بار بار دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر وہ اس کے ساتھ نہیں رہیں گی تو کسی اور کو بھی ان کے قریب نہیں آنے دے گا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں کئی مرتبہ گاڑی میں زبردستی روک کر رکھا گیا، گاڑی کی چابیاں چھپا دی گئیں، موبائل فون توڑا گیا اور فرار ہونے کی کوشش روکنے کیلئے ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ یہ واقعات 2023 سے گزشتہ سال تک پیش آتے رہے۔ متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگرچہ وہ اس تشدد کا درد طویل عرصے تک اپنے ساتھ لے کر چلیں گی، لیکن اب ملزم کو اپنے اعمال کی حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ شہزاد زمان برمنگھم کے علاقے اسپارک بروک میں گاڑیوں کی صفائی کے ایک معروف کاروبار سے وابستہ ہیں اور ماضی میں ایک بے گھر شخص کو ملازمت اور رہائش فراہم کرنے کے باعث بھی خبروں میں آ چکے تھے، تاہم حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد ان کے خلاف سنگین الزامات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
