تکبیر نیوز، نیوکاسل (برطانیہ): یونان میں چھٹیاں منانے جانے والے ایک برطانوی نوجوان کی خوشیوں بھری سیر چند گھنٹوں میں خوفناک حادثے میں تبدیل ہوگئی، جہاں کواڈ بائیک حادثے کے بعد 27 سالہ نوجوان شدید زخمی ہو کر اسپتال پہنچ گیا جبکہ اس کے والد اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے دن رات اسپتال کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔
برطانیہ کے شہر نیوکاسل سے تعلق رکھنے والے جان کوئن اپنے بیٹے لوئس اور ایک خاندانی دوست کے ہمراہ 6 جون کو یونانی جزیرے زانتے کے علاقے کالاماکی میں چھٹیاں گزارنے پہنچے تھے۔ خاندان کے مطابق یونان پہنچنے کے صرف ایک روز بعد یہ خوشگوار سفر المناک موڑ اختیار کر گیا۔
اطلاعات کے مطابق تینوں دوستوں نے جزیرے کی سیر کے لیے کواڈ بائیکس کرائے پر حاصل کی تھیں۔ اگلی صبح انہیں اطلاع ملی کہ لوئس ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ پولیس نے خاندان کو بتایا کہ نوجوان کی حالت تشویشناک ہے۔
حادثے میں لوئس کا بازو ٹوٹ گیا جبکہ اس کے جبڑے کی دو جگہوں سے ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔ شدید زخمی حالت میں اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر مصنوعی سانس کی مشین پر منتقل کر دیا۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب پھیپھڑوں میں اندرونی خون بہنے کے باعث انفیکشن پیدا ہوا جو بعد ازاں نمونیا میں تبدیل ہوگیا۔ نوجوان تقریباً دو ہفتے تک اسپتال میں زیر علاج رہا۔ اگرچہ اب اس کی حالت میں بہتری آ رہی ہے اور وہ ہوش میں آ چکا ہے، تاہم ڈاکٹر ابھی یہ نہیں بتا رہے کہ وہ کب سفر کے قابل ہوگا اور برطانیہ واپس جا سکے گا۔
والد جان کوئن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں کبھی اتنا ذہنی دباؤ اور پریشانی محسوس نہیں کی جتنی گزشتہ چند ہفتوں میں برداشت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کو صحیح سلامت گھر واپس لانا چاہتے ہیں۔
مشکل صورتحال اس وقت مزید بڑھ گئی جب معلوم ہوا کہ لوئس نے سفر سے قبل سفری انشورنس نہیں کروائی تھی۔ علاج اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے دوستوں نے چندہ مہم شروع کی جس کے ذریعے اب تک ہزاروں پاؤنڈ جمع کیے جا چکے ہیں۔
والد کے مطابق چندہ مہم کا مقصد صرف بیٹے کے علاج، رہائش اور وطن واپسی کے اخراجات پورے کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی شریک حیات بھی یونان پہنچ چکی ہیں اور خاندان اس مشکل وقت میں مسلسل اسپتال کے قریب رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جان کوئن کا کہنا ہے کہ وہ ہر لمحہ اس امید میں ہیں کہ جلد اپنے بیٹے کے ساتھ برطانیہ واپس لوٹ سکیں، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔
