تکبیر نیوز، تہران: ایران نے امریکا پر معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی اور لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کو جواز بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی تیل منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا جبکہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش دشمن کی مبینہ وعدہ خلافی کا پہلا جواب ہے اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی علیحدہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی صبح سے اس اہم آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے تمام تجارتی، تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے سے گریز کریں کیونکہ ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ بندش کتنے عرصے تک برقرار رہے گی، تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکا ہے جہاں امریکی نمائندوں سے رابطوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکا، ایران اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم ایران کے تازہ اعلان نے ایک بار پھر عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس آبی راستے میں طویل تعطل پیدا ہوتا ہے تو عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
