تکبیر نیوز، لندن: برطانیہ میں بچوں کے لیے مجوزہ سوشل میڈیا پابندی کے معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ہزاروں افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی کی عمر 16 سال کے بجائے 13 سال مقرر کی جائے۔
برطانوی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر ایک عوامی درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 13 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، جبکہ پابندی صرف 13 سال سے کم عمر بچوں پر لاگو کی جائے۔
یہ درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانوی حکومت نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 13 سال کی عمر میں بچے باضابطہ طور پر نوعمری میں داخل ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ 16 سال کی حد بہت زیادہ ہے اور اس سے لاکھوں نوجوان متاثر ہوں گے۔
اب تک اس درخواست کو 14 ہزار سے زائد افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جس کے بعد حکومت اس پر باضابطہ جواب دینے کی پابند ہو گئی ہے۔ اگر دستخطوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے تو اس معاملے پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث بھی ہو سکتی ہے۔
برطانوی وزیراعظم Keir Starmer نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت بچوں کی آن لائن حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور امید ہے کہ متعلقہ قانون سازی کرسمس سے قبل مکمل کر لی جائے گی۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مجوزہ پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے میں مدد ملے گی اور انہیں ذہنی طور پر زیادہ محفوظ ماحول میسر آئے گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مکمل پابندی نوجوانوں کو غیر محفوظ اور غیر منظم آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ بعض کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز پر پہلے ہی نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پابندی کے حوالے سے جاری یہ بحث برطانیہ بھر میں والدین، اساتذہ، ماہرین تعلیم اور نوجوانوں کے درمیان اہم موضوع بن چکی ہے، جبکہ حکومت آئندہ مہینوں میں اس حوالے سے حتمی پالیسی سامنے لا سکتی ہے۔
