تکبیر نیوز، بیڈفورڈ (برطانیہ): برطانیہ کے شہر بیڈفورڈ کے قریب دو مسافر ٹرینوں کے خوفناک تصادم کے ایک روز بعد بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں ایک ڈرائیور جان کی بازی ہار گیا جبکہ 9 افراد اب بھی انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والا شخص کوربی سے لندن جانے والی ٹرین کا ڈرائیور تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کے اہل خانہ کی خصوصی تربیت یافتہ افسران کے ذریعے مدد اور رہنمائی کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق حادثہ جمعہ کی شام بیڈفورڈ کے جنوب میں ایلسٹو انٹرچینج کے قریب پیش آیا، جہاں کوربی سے لندن سینٹ پینکراس جانے والی ٹرین اور ناٹنگھم سے لندن جانے والی دوسری مسافر ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔
برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کی سربراہ لوسی ڈی اورسی نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ حادثے کے بعد 80 سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 28 افراد تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جبکہ 9 کی حالت انتہائی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہنوں میں حادثے کی وجوہات سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں، تاہم اس مرحلے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ماہر تفتیش کار اور ریلوے حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں میں پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس، فضائی امدادی یونٹ، نیشنل ریل اور ایسٹ مڈلینڈز ریلوے کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ حکام نے امدادی ٹیموں اور مقامی شہریوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں لوگوں نے پھنسے ہوئے مسافروں کی بھرپور مدد کی۔
ایسٹ مڈلینڈز ریلوے کے منیجنگ ڈائریکٹر ول راجرز نے کہا کہ ڈرائیور کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر ادارہ شدید غمزدہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں، زخمیوں اور ریلوے عملے سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
حادثے کے باعث متعدد ریلوے سروسز متاثر ہوئی ہیں جبکہ مسافروں کو لندن سفر کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ روٹس پر معمول کی سروس بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
ریلوے حکام اور تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی رپورٹ سامنے آنے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
