(تکبیر نیوز—- برطانیہ، مانچسٹر) برطانیہ میں لیبر پارٹی کے اندر جاری سیاسی بحران کے دوران مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اینڈی برنہم ماضی میں بھی پارٹی قیادت کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور انہوں نے لیبر پارٹی کی پالیسی سمت پر کھلی بحث کا مطالبہ کیا تھا۔
گزشتہ برس لیبر پارٹی کانفرنس کے دوران انہوں نے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی پر سوالات اٹھائے تھے جبکہ بعد ازاں انہوں نے قیادت کیلئے ممکنہ چیلنج کو بھی مسترد نہیں کیا تھا۔
تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کیلئے برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم بننے کا راستہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت وہ پارلیمنٹ کے رکن نہیں بلکہ مانچسٹر کے میئر ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم بننے کیلئے انہیں سب سے پہلے پارلیمنٹ کی خالی نشست درکار ہوگی۔
کچھ لیبر ارکان پارلیمنٹ نے ماضی میں ان کیلئے نشست چھوڑنے کا اشارہ دیا تھا تاہم متعدد رہنماؤں نے اب واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی نشستیں خالی نہیں کریں گے۔
اس کے بعد اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اسی کمیٹی نے رواں برس انہیں گریٹر مانچسٹر کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
اگر انہیں کسی نشست پر انتخاب لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے تو اگلا مرحلہ ضمنی انتخاب جیت کر رکن پارلیمنٹ بننا ہوگا کیونکہ لیبر پارٹی قوانین کے مطابق صرف رکن پارلیمنٹ ہی پارٹی قیادت کیلئے انتخاب لڑ سکتا ہے۔
پارٹی قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے انہیں لیبر ارکان پارلیمنٹ کی کم از کم 20 فیصد حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔
اس کے علاوہ مقامی لیبر تنظیموں یا پارٹی سے منسلک یونینز کی حمایت بھی ضروری ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کیئر اسٹارمر پر دباؤ مزید بڑھتا ہے تو اینڈی برنہم لیبر پارٹی میں ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر سکتے ہیں تاہم انہیں وزیراعظم بننے کیلئے کئی سیاسی رکاوٹوں سے گزرنا ہوگا۔
