تکبیر نیوز (لندن): اپنی شیرخوار بیٹی کی ہلاکت کے جرم میں 14 سال قید کی سزا پانے والی اشرافیہ خاندان سے تعلق رکھنے والی کانسٹینس مارٹن کو سزا کے خلاف اپیل کی اجازت مل گئی ہے۔ 39 سالہ مارٹن کے وکلا نے سزا کے خلاف اپیل کی درخواست دی تھی، جسے عدالت نے منظور کرلیا ہے، تاہم اپیل کی سماعت کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی۔
کانسٹینس مارٹن اور اس کے ساتھی 52 سالہ مارک گورڈن اس وقت حکام سے چھپ رہے تھے جب ان کی شیرخوار بیٹی وکٹوریا جنوری 2023 میں ساؤتھ ڈاؤنز کے علاقے میں ایک خیمے کے اندر ہلاک ہوگئی تھی۔
دونوں ملزمان اپنی بیٹی کو سماجی نگہداشت میں لیے جانے سے روکنے کے لیے حکام سے فرار ہوئے تھے۔ اس سے قبل مارٹن کے چار دیگر بچے بھی نگہداشت میں لیے جاچکے تھے۔
اولڈ بیلی میں ہونے والے مقدمے کے دوران مارٹن اور گورڈن کو بچی کی قتلِ خطا، بچے سے بدسلوکی، پیدائش چھپانے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ دو مرتبہ چلایا گیا اور ہر سماعت تقریباً چھ ماہ تک جاری رہی۔
عدالت نے دونوں کو 14، 14 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ گورڈن کو رہائی کے بعد مزید چار سال توسیعی نگرانی میں رکھنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔
اب کانسٹینس مارٹن کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کی اجازت مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے سنگین غفلت کے نتیجے میں قتلِ خطا کے جرم میں سنائی گئی سزا کے خلاف بھی اپیل کی اجازت حاصل کرنے کی درخواست دوبارہ دائر کی ہے۔ عدالت کی جانب سے اس درخواست پر آئندہ کارروائی کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی۔
مقدمے کے دوران جج مارک لوکرافٹ کے سی نے استغاثہ کا یہ مؤقف تسلیم کیا تھا کہ بچی وکٹوریا شدید سردی کا شکار ہونے کے نتیجے میں ہلاک ہوئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بچی کو انتہائی سرد موسم کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مارٹن اور گورڈن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بچی خیمے میں سوتے ہوئے ایک افسوسناک حادثے میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی، تاہم جج نے ان کا مؤقف مسترد کردیا تھا۔
جج نے سزا سناتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملزمان نے اپنی بچی کی دیکھ بھال اور محبت کے حوالے سے انتہائی کم یا کوئی توجہ نہیں دی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ معاملہ اس لیے مزید سنگین تھا کیونکہ بچی انتہائی کمزور حالت میں تھی اور دونوں کو ماضی میں دی گئی تنبیہات پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 5 جنوری 2023 کو گریٹر مانچسٹر کے قریب موٹروے پر جوڑے کی گاڑی میں آگ لگ گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے دونوں کی تلاش کے لیے ملک گیر کارروائی شروع کردی۔
مارٹن اور گورڈن اس کے بعد انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں چھپتے رہے اور ساؤتھ ڈاؤنز میں ایک خیمے میں قیام کیا، جہاں چند روز بعد ان کی بیٹی وکٹوریا ہلاک ہوگئی۔
دونوں تقریباً سات ہفتے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچتے رہے، تاہم بعد ازاں انہیں برائٹن سے گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس نے طویل تلاش کے بعد قریب ہی ایک متروک شیڈ سے بچی کی لاش برآمد کی تھی، جو کچرے کے درمیان ایک لِڈل کے شاپنگ بیگ میں موجود تھی۔
اب کانسٹینس مارٹن کی سزا کے خلاف اپیل کے لیے عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی، جبکہ اس کی جانب سے جرم کی سزا کے خلاف مزید اپیل کی درخواست پر بھی عدالت میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔
