تکبیر نیوز (لیسٹر): لیسٹر میں ایک نوجوان پر پرتشدد اور بظاہر بلااشتعال حملے کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ 27 سالہ جارج گلوور کو سڑک پر سائیکل چلاتے ہوئے مبینہ طور پر مکے مارے گئے، شدید زخمی ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
پولیس کے مطابق جارج گلوور کو پیر 17 اگست کی صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے ناربرورو روڈ پر نول اسٹریٹ کے جنکشن کے سامنے ایک شہری نے زخمی حالت میں پایا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ جارج پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ سائیکل پر سڑک سے گزر رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں انہیں انتہائی سنگین نوعیت کی چوٹیں آئیں اور ایسٹ مڈلینڈز ایمبولینس سروس نے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔
جارج کو ناٹنگھم کے کوئنز میڈیکل سینٹر میں انتہائی تشویشناک حالت میں علاج فراہم کیا گیا، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ جمعرات کو دم توڑ گئے۔
پولیس نے واقعے کے سلسلے میں 31 سالہ شخص اور 39 سالہ خاتون کو ڈکیتی اور قتل کی سازش کے شبے میں گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور تفتیش جاری ہے۔
جارج گلوور کے خاندان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک انتہائی پیارے بیٹے اور اپنے تین بہن بھائیوں کے بڑے بھائی تھے اور ان کی موت کا صدمہ خاندان کو شدت سے محسوس ہورہا ہے۔
خاندان کے مطابق جارج محنتی اور اپنے کام کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ نوجوان تھے۔ وہ اپنی ملازمت سے محبت کرتے تھے اور کام کے بعد گھر آکر گیمنگ، سائیکل کے پرزوں کے ساتھ کام کرنے اور اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔
خاندان نے بتایا کہ جارج کم گو اور اپنی ذات تک محدود رہنے والے انسان تھے، جبکہ ان کے بہن بھائی انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ گھر پہنچتے ہی بہن بھائیوں کے ساتھ ان کی ہنسی مذاق کی محفل شروع ہوجاتی تھی۔
جارج کو اینیمے، لیگو اور پوکیمون کارڈز میں بھی دلچسپی تھی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں زندگی کے ابتدائی دور میں جسمانی مشکلات کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا اور خاندان کو ان پر فخر تھا۔
ایسٹ مڈلینڈز اسپیشل آپریشنز یونٹ کے ڈیٹیکٹو انسپکٹر کیون ہیمز نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک پرتشدد اور بلااشتعال حملہ تھا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس جارج کے خاندان کے لیے انصاف یقینی بنانے کی خاطر ذمہ دار افراد کی شناخت اور گرفتاری چاہتی ہے اور عوام سے تحقیقات میں مدد کی اپیل کی ہے۔
ڈیٹیکٹو انسپکٹر کے مطابق ناربرورو روڈ شہر میں آنے اور جانے کے لیے ایک مصروف راستہ ہے، اس لیے پولیس ان تمام افراد سے رابطہ چاہتی ہے جو پیر کی صبح اس علاقے میں موجود تھے یا جنہوں نے واقعے سے قبل یا بعد میں کوئی مشتبہ سرگرمی دیکھی۔
پولیس نے خاص طور پر ایسے افراد سے اپیل کی ہے جن کے پاس گاڑیوں کی ڈیش کیم ریکارڈنگ، موبائل فون کی ویڈیو یا واقعے سے متعلق کوئی دوسری معلومات موجود ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر کچھ ایسے افراد بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے واقعے سے متعلق اہم معلومات دیکھی ہوں لیکن ابھی تک پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔ پولیس نے زور دیا ہے کہ معمولی دکھائی دینے والی کوئی بھی اطلاع تحقیقات میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ گرفتار دونوں افراد پولیس کی تحویل میں ہیں۔
