تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کے سابق لیڈی وڈ پولیس اسٹیشن کی 19 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کے بعد سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھ گئے ہیں، کیونکہ جائیداد خریدنے والے ڈویلپرز سے منسلک افراد اور کمپنیوں کی جانب سے اسی عرصے میں لیبر پارٹی کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 55 ہزار 180 پاؤنڈ کے عطیات دیے گئے۔ تاہم ویسٹ مڈلینڈز کے پولیس اور کرائم کمشنر سائمن فوسٹر کا کہنا ہے کہ انہیں ان عطیات کا علم نہیں تھا اور پولیس اسٹیشن کی فروخت میں ان کا کوئی اثر یا کردار نہیں تھا۔
لیڈی وڈ پولیس اسٹیشن کی فروخت کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب یہ سامنے آیا کہ پراپرٹی ڈویلپر میا پراپرٹی گروپ نے یہ جگہ 19 لاکھ پاؤنڈ میں حاصل کی۔ کمپنی کے بانی مقبول احمد ہیں جبکہ ان کے بیٹے زاہر احمد بھی کاروبار سے وابستہ ہیں۔ منصوبے کے تحت پولیس اسٹیشن سے ملحق زمین کو ملا کر اس مقام پر 137 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جارہے ہیں، جو ایک ہاؤسنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت میں سماجی رہائش کے طور پر استعمال ہوں گے۔
لیڈی وڈ پولیس اسٹیشن کو جون 2024 میں فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اسی مہینے مقبول احمد نے قومی لیبر پارٹی کو مجموعی طور پر 1 لاکھ پاؤنڈ عطیہ کیا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ کسی سیاسی جماعت کو ان کا پہلا ریکارڈ شدہ عطیہ تھا۔
اس کے بعد فروری 2025 میں، معاہدے مکمل ہونے سے صرف آٹھ روز قبل، مقبول احمد نے لیبر پارٹی کو مزید 75 ہزار 180 پاؤنڈ عطیہ کیے۔ اپریل میں ایک کمپنی ایکٹو پائن کی جانب سے مزید 80 ہزار پاؤنڈ لیبر پارٹی کو دیے گئے۔ یہ کمپنی یوسف پراپرٹی ہولڈنگز کے زیر کنٹرول بتائی گئی ہے۔
یوں تقریباً دس ماہ کے دوران مقبول احمد اور ان کے خاندان سے منسلک کاروباری اداروں کی جانب سے لیبر پارٹی کو دیے گئے عطیات کی مجموعی مالیت 2 لاکھ 55 ہزار 180 پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ جنوری میں پلے اسکین نامی کمپنی کے ذریعے بھی لیبر پارٹی کو 50 ہزار پاؤنڈ کا عطیہ دیا گیا، جو یوسف پراپرٹی ہولڈنگز کے کنٹرول میں بتائی جاتی ہے۔
لیڈی وڈ پولیس اسٹیشن کی فروخت کی منظوری ویسٹ مڈلینڈز کے پولیس اور کرائم کمشنر سائمن فوسٹر نے دی تھی۔ فریڈم آف انفارمیشن کی درخواست کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پولیس اسٹیشن کی فروخت پر ایک غیر ریکارڈ شدہ اجلاس میں بات ہوئی تھی۔
سائمن فوسٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ کمشنر کے دفتر اور میا پراپرٹی گروپ کے درمیان رابطوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، کیونکہ پولیس کی جائیدادوں کی فروخت کا عمل ویسٹ مڈلینڈز پولیس کا متعلقہ شعبہ اور مقرر کردہ پراپرٹی ایجنٹس مکمل کرتے ہیں۔ کمشنر کے دفتر کے مطابق فوسٹر کا کردار صرف اس مرحلے پر آتا ہے جب تمام سفارشات مکمل ہونے کے بعد حتمی منظوری دینی ہوتی ہے۔
فوسٹر کے ترجمان نے واضح کیا کہ پولیس کی جائیداد کی فروخت کا عمل مضبوط، سخت اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت مکمل کیا گیا اور میا پراپرٹی گروپ کی جانب سے 19 لاکھ پاؤنڈ کی پیشکش غیر مشروط بولیوں میں سب سے زیادہ تھی۔
ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ بولیوں کا جائزہ صرف قیمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ منصوبے کی تکمیل، مقامی منصوبہ بندی سے مطابقت اور سماجی فوائد سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھ کر لیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن کی فروخت کے عرصے میں مقبول اور زاہر احمد کی لیبر رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور تقریبات بھی سامنے آئی ہیں۔ مارچ 2025 میں زاہر احمد کی رہائش گاہ پر افطار کی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں سائمن فوسٹر کے علاوہ ویسٹ مڈلینڈز کے لیبر میئر رچرڈ پارکر اور لیبر ارکان پارلیمنٹ پریت گل اور سارہ کومبز بھی شریک ہوئے۔
میا پراپرٹی گروپ کی جانب سے جاری کی گئی معلومات کے مطابق اس تقریب میں سیاسی اور کاروباری شخصیات نے برمنگھم کو زیادہ جامع اور مضبوط شہر بنانے کے حوالے سے گفتگو کی۔
تاہم فوسٹر کے دفتر نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ تقریب میں مختصر وقت کے لیے موجود تھے، لیکن انہوں نے وہاں کھانا نہیں کھایا اور اسی وجہ سے یہ تقریب ان کے تحائف اور مہمان نوازی کے رجسٹر میں شامل نہیں کی گئی۔ ترجمان کے مطابق فوسٹر اس شام چیف کانسٹیبل کے ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔
میا پراپرٹی گروپ کا تعلق برمنگھم میں ایک طویل عرصے سے قائم کاروباری خاندان سے ہے۔ کمپنی کی بنیاد مقبول احمد نے 1984 میں رکھی تھی اور اس کے پاس مڈلینڈز میں سیکڑوں جائیدادوں کا پورٹ فولیو بتایا جاتا ہے۔
2019 میں زاہر احمد سے منسلک ایک کمپنی زائما لمیٹڈ نے لیڈی وڈ سوشل کلب کی تقریباً نصف ایکڑ اراضی خریدی تھی۔ بعد میں پولیس اسٹیشن کی زمین بھی حاصل ہونے کے بعد دونوں مقامات کو ایک منصوبے میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
رواں سال فروری میں میا پراپرٹی گروپ نے اعلان کیا کہ سابق پولیس اسٹیشن اور سوشل کلب کی جگہ کو ملا کر 137 سماجی رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبہ مڈلینڈ ہارٹ ہاؤسنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت میں مکمل کیا جارہا ہے۔
پولیس اور کرائم کمشنر کے دفتر نے اس منصوبے کے سماجی رہائش فراہم کرنے والے پہلو کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ جگہ نجی مارکیٹ کے لیے مہنگے گھروں کی تعمیر کے بجائے ضرورت مند افراد کے لیے سماجی رہائش میں استعمال ہوگی، جو شہر میں رہائش کی ضرورت پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس معاملے میں برمنگھم کے سیاسی منظرنامے سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات کے روابط بھی زیر بحث آئے ہیں۔ لیبر کی ڈپٹی لیڈر لوسی پاول نے رواں سال مارچ میں میا پراپرٹی گروپ کے تعمیر کردہ سماجی رہائشی منصوبے سے متعلق ایک انتخابی ویڈیو میں شرکت کی، جس میں زاہر احمد بھی نظر آئے۔
لوسی پاول نے اس منصوبے کو لیبر کی جانب سے کیے جانے والے کام کی مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ برمنگھم میں لیبر کے اقدامات سے کیا فرق پڑتا ہے۔ زاہر احمد اس کے علاوہ پاول کے ساتھ برمنگھم کے مقامی انتخابات کے امیدواروں کی مہم میں بھی نظر آئے۔
دوسری جانب سائمن فوسٹر کے ترجمان نے واضح طور پر کہا ہے کہ فوسٹر کو احمد خاندان سے منسلک عطیات، ان کے سیاسی روابط یا مبینہ ملاقاتوں کا علم نہیں تھا اور ان معاملات کا پولیس اسٹیشن کی فروخت کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ کسی بھی قسم کا یہ تاثر کہ سیاسی عطیات یا تعلقات نے پولیس اسٹیشن کی فروخت کے فیصلے میں کردار ادا کیا، گمراہ کن ہوگا۔
لیبر پارٹی نے بھی کہا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ کو پولیس اسٹیشن کی فروخت کے بارے میں کوئی علم، شمولیت یا اثر و رسوخ حاصل نہیں تھا اور یہ معاملہ مکمل طور پر مقامی پولیس قیادت سے متعلق تھا۔ پارٹی کے مطابق تمام سیاسی عطیات قواعد کے مطابق شفاف طریقے سے ظاہر کیے جاتے ہیں اور ان کا پارٹی پالیسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
میا پراپرٹی گروپ سے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم کمپنی کی جانب سے تفصیلی جواب نہیں دیا گیا۔
یوں لیڈی وڈ پولیس اسٹیشن کی فروخت اور اس کے اردگرد سامنے آنے والے سیاسی و کاروباری روابط نے برمنگھم میں پراپرٹی، سیاست اور سیاسی عطیات کے باہمی تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم متعلقہ فریقوں نے کسی بھی سیاسی عطیے یا تعلق کو پولیس اسٹیشن کی فروخت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے سے واضح طور پر مسترد کیا ہے۔
