تکبیر نیوز (واروک): برطانیہ میں کوونٹری سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ حجام جواد حاجی کو خاتون سے زیادتی، زیادتی کی کوشش، جنسی حملے، جسمانی دخول کے ذریعے حملے اور گلا دبانے سمیت تمام الزامات سے بری کردیا گیا۔ واروک کراؤن کورٹ میں جیوری نے صرف ایک گھنٹے سے کچھ زائد غور کے بعد جواد حاجی کو تمام مقدمات میں بے قصور قرار دے دیا۔
جواد حاجی کا تعلق کوونٹری کے پارک اسٹریٹ سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے حجام ہے۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے رواں سال جنوری میں اسٹریٹ فورڈ اپون ایون کے ایک حجام کی دکان میں ایک خاتون پر حملہ کیا تھا۔ بتایا گیا کہ خاتون کو وہاں ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم بعد میں اس نے پولیس کو مبینہ حملے کی اطلاع دی، جس کے بعد فروری میں جواد حاجی کو گرفتار کیا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جواد حاجی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ خاتون سے پہلے بھی کئی مرتبہ مل چکا تھا اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات تھے۔ اس کے مطابق مبینہ واقعے کے روز وہ حجام کی دکان کے پچھلے حصے میں پانی لینے گیا تو خاتون بھی اس کے پیچھے آگئی، اسے پیچھے سے گلے لگایا اور کہا کہ اسے اس کی کمی محسوس ہوئی۔
جواد حاجی نے عدالت کو بتایا کہ دونوں نے بوسہ لیا، تاہم خاتون کی دوست کے دکان پر واپس آنے کے بعد دونوں وہاں سے چلے گئے۔ اس نے واضح طور پر کسی بھی قسم کے جنسی حملے یا نامناسب حرکت سے انکار کیا۔
عدالت میں جواد حاجی نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کے ساتھ اس کے قریبی دوستانہ تعلقات تھے اور اس نے ماضی میں کندھے میں درد کی شکایت پر اسے مالش بھی کی تھی۔ تاہم اس کا کہنا تھا کہ وہ خاتون کو جنسی طور پر پرکشش نہیں سمجھتا تھا اور اس نے کبھی اس کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی۔
استغاثہ کے وکیل سائمن ہنکا نے جرح کے دوران جواد حاجی سے سوال کیا کہ کیا اس کا مؤقف یہی ہے کہ وہ ہمیشہ خاتون کے ساتھ اچھے اور دوستانہ رویے سے پیش آیا۔ جواد حاجی نے جواب دیا کہ وہ اس کے ساتھ اچھا تھا اور زندگی میں کبھی اس کے ساتھ کوئی غلط حرکت نہیں کرسکتا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جواد حاجی کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے پولیس کے ساتھ تعاون بھی کیا اور جب پولیس نے اس کا موبائل فون قبضے میں لیا تو اس نے اپنا پن کوڈ بھی فراہم کیا، تاہم اس فون میں خاتون کے ساتھ اسنیپ چیٹ پر ہونے والی کسی گفتگو کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
مقدمے کے اختتام پر واروک کراؤن کورٹ کی جیوری نے صرف ایک گھنٹے سے کچھ زائد غور کے بعد جواد حاجی کو ریپ، ریپ کی کوشش، جنسی حملے، جسمانی دخول کے ذریعے حملے اور جان بوجھ کر گلا دبانے سمیت تمام الزامات سے بری کردیا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد جج ریکارڈر انتھونی وارنر نے جواد حاجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیوری نے اسے تمام الزامات سے بری کردیا ہے اور مقدمہ اب ختم ہوچکا ہے۔ جج نے جیوری کے ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا اور مقدمے کے دوران ان کی توجہ اور ذمہ داری کو سراہا۔
بری ہونے کے بعد جواد حاجی کو عدالت سے رہا کردیا گیا۔
