تکبیر نیوز (نیوکاسل): برطانیہ میں دوستوں کے ساتھ رات گزارنے کے بعد لاپتا ہونے والے 22 سالہ فوجی لیام پوٹس کی لاش دریائے ٹائن سے ملنے کے بعد پولیس نے دو افراد کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ نارتھمبریا پولیس کے مطابق 22 اور 23 سالہ دونوں افراد کو قتلِ خطا کے شبے میں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے اور وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔
لیام پوٹس کو 15 اگست کو لاپتا قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی۔ منگل کے روز ان کی لاش نیوکاسل کے قریب وائلم برج سے کچھ فاصلے پر دریائے ٹائن سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے لاش ملنے کے وقت کہا تھا کہ انہیں موت میں کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کا شبہ نہیں، تاہم تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی نئی معلومات کے بعد دو افراد کو قتلِ خطا کے شبے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق لیام کے لاپتا ہونے سے قبل وائلم کے علاقے میں واقع ایک مقام پر ہنگامے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد وائلم برج پر ایک گاڑی اور پیدل چلنے والے افراد کے درمیان تصادم پیش آیا۔ حادثے میں 20 سال کی عمر کے ایک مرد اور ایک خاتون کو شدید لیکن جان لیوا نہ ہونے والی چوٹیں آئیں۔
زخمی شخص کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ خاتون کو علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لیام پوٹس اس گاڑی میں سوار نہیں تھے اور نہ ہی وہ گاڑی کی زد میں آئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق لیام کو آخری مرتبہ وائلم برج سے پیدل وائلم کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ برج پر ہونے والے ہنگامے اور حادثے کا لیام کے دریا میں جانے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
نارتھمبریا پولیس کی تفتیشی افسر ریچل ردرفورڈ نے کہا کہ لیام حادثے کے وقت برج پر موجود تھے، تاہم وہ گاڑی کے مسافر نہیں تھے اور گاڑی سے ٹکرائے بھی نہیں تھے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیام کسی نامعلوم وجہ سے حادثے کے چند ہی منٹ بعد پانی میں داخل ہوئے۔ اسی وجہ سے دونوں افراد کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حادثے اور لیام کے پانی میں جانے کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں۔
لیام پوٹس کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے انہیں "ہر محفل کی جان” قرار دیا ہے۔ ان کی یاد میں وائلم برج پر متعدد افراد نے پھول اور تعزیتی پیغامات بھی رکھے ہیں۔
تفتیشی افسر ریچل ردرفورڈ نے کہا کہ پولیس لیام کے اہل خانہ کے لیے اس مشکل وقت میں ہمدردی رکھتی ہے اور ان کی موت سے متعلق تمام سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے گی۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ واقعے سے متعلق سوشل میڈیا یا مقامی سطح پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے جاری تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں۔ پولیس نے لیام کے اہل خانہ کی نجی زندگی کا احترام کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
