تکبیر نیوز (لنکن شائر): برطانیہ میں کم عمر طالب علم کے ساتھ متعدد مرتبہ جنسی تعلق قائم کرنے والی سابق ٹیچر کو عدالت نے ساڑھے 4 سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ اسے زندگی بھر جنسی مجرموں کے رجسٹر میں شامل رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
لنکن شائر کے علاقے میبل تھورپ کی 26 سالہ ایمیلی ڈری نے ایک کم عمر لڑکے کے ساتھ متعدد مواقع پر جنسی حرکات کیں۔ عدالت میں متاثرہ لڑکے کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں اس نے بتایا کہ ڈری اس کے ساتھ مہربانی سے پیش آتی تھی، مثبت باتیں کرتی، اسے کپڑے خرید کر دیتی اور اس سے ذاتی معاملات پر گفتگو کرتی تھی، جس کے باعث اسے اس پر اعتماد ہوگیا تھا۔
متاثرہ لڑکے نے بتایا کہ اسے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بات کرنے میں اس لیے بھی مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ وہ کم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ لڑکا تھا، جبکہ ڈری ایک بالغ خاتون اور اعتماد و اختیار کی پوزیشن پر موجود تھی۔
متاثرہ لڑکے نے عدالت کو بتایا کہ اسے خدشہ تھا کہ لوگ اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے اور اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ عام بچے کی طرح زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہا اور اسے یہ خوف بھی تھا کہ مرد متاثرین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق معاشرے میں موجود منفی تاثر اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
لنکن پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکے نے غیر معمولی حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے آنے کا فیصلہ کیا، جو ایمیلی ڈری کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں انتہائی اہم ثابت ہوا۔
ڈری نے مقدمے کے آخری مرحلے میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ اس نے ایک کم عمر لڑکے کے ساتھ بغیر دخول کے جنسی فعل اور دخول پر مبنی جنسی فعل کے چار الزامات میں جرم قبول کیا۔
لنکن کراؤن کورٹ میں جمعے کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے ایمیلی ڈری کو چار سال چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اسے زندگی بھر جنسی مجرموں کے رجسٹر میں شامل رکھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ رہائی پر غور کیے جانے سے قبل اسے اپنی سزا کا کم از کم نصف حصہ جیل میں گزارنا ہوگا۔
لنکن شائر پولیس کی تفتیشی افسر جولی جوڈ نے کہا کہ ڈری نے اپنی اعتماد کی پوزیشن کا غلط استعمال کیا اور ایک ایسے کم عمر اور کمزور فرد تک حاصل رسائی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جسے اس پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے تھا۔
پولیس افسر کے مطابق ایک بالغ شخص سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختیار کی پوزیشن پر رہتے ہوئے کم عمر افراد کی رہنمائی، مدد اور حفاظت کرے، لیکن ڈری نے اس کے برعکس اپنی پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ لڑکے کو نشانہ بنایا اور اس کے اعتماد کا فائدہ اٹھایا۔
پولیس نے کہا کہ اس نوعیت کے جرائم متاثرین پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرسکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب معاملے میں طاقت کا واضح عدم توازن اور اعتماد کا غلط استعمال شامل ہو۔
تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ متاثرہ لڑکے کو مقدمے کے دوران ایک طویل اور مشکل قانونی عمل سے گزرنا پڑا، جبکہ ملزمہ کی جانب سے جرم قبول کرنے میں تاخیر نے اس کی پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھایا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکے نے اپنے خدشات کے باوجود انتہائی حوصلے، وقار اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سابق ٹیچر کو اپنے جرائم کا جواب دینا پڑا۔
