رِفارم یو کے کا بینیفٹس پالیسی میں بڑی تبدیلی کا منصوبہ
تکبیر نیوز (برطانیہ): برطانیہ میں فلاحی نظام کے حوالے سے رِفارم یو کے نے بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر وہ حکومت بناتی ہے تو زیادہ تر غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ کے سرکاری بینیفٹس سے خارج کردیا جائے گا۔ حیران کن طور پر مجوزہ پابندی میں وہ یورپی یونین کے شہری بھی شامل ہوں گے جن کے پاس برطانیہ میں سیٹلڈ اسٹیٹس موجود ہے۔
یہ تجویز صرف بینیفٹس کے نظام تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ کے بعد طے پانے والے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی ممالک میں رہنے والے بعض برطانوی شہریوں کے موجودہ مساوی حقوق بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رِفارم یو کے کا دعویٰ ہے کہ اس کے منصوبے سے حکومت کے اخراجات میں پانچویں سال تک ہر سال تقریباً 21 ارب پاؤنڈ کی کمی آسکتی ہے۔
کن بینیفٹس پر پابندی کی تجویز ہے؟
پارٹی کے مجوزہ منصوبے کے تحت غیر ملکی شہریوں کو تقریباً تمام بڑے فلاحی فوائد سے محروم کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں ہاؤسنگ بینیفٹ، پنشن کریڈٹ، ملازمت تلاش کرنے والوں کا الاؤنس، چائلڈ بینیفٹ، مفت بچوں کی نگہداشت اور معذوری سے متعلق فوائد شامل ہیں۔
چند محدود استثنیٰ بھی تجویز کیے گئے ہیں، جن میں جنگ میں شوہر کھونے والی خواتین کی پنشن اور مسلح افواج سے متعلق معاوضے شامل ہیں۔
رِفارم یو کے اس سے قبل یہ اعلان بھی کرچکی ہے کہ حکومت میں آنے کی صورت میں غیر ملکی شہریوں کو یونیورسل کریڈٹ حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔
پارٹی کے شیڈو چانسلر رابرٹ جینرک نے مؤقف اختیار کیا کہ برطانوی ٹیکس دہندگان سے غیر ملکی شہریوں کے فوائد کی ادائیگی کرانا معاشی اور اخلاقی طور پر درست نہیں۔
سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والے یورپی شہری بھی دائرے میں
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پابندی ان یورپی یونین کے شہریوں تک بھی پہنچ سکتی ہے جنہیں برطانیہ میں سیٹلڈ اسٹیٹس حاصل ہے۔
سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والے افراد کو موجودہ نظام کے تحت برطانیہ میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا غیر معینہ مدت تک حق حاصل ہے۔ ایسے بہت سے افراد برطانیہ میں مسلسل پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصہ رہ چکے ہیں۔
اگر رِفارم یو کے کی تجویز اسی شکل میں نافذ کی جاتی ہے تو بریگزٹ کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان طے شدہ انتظامات پر دوبارہ مذاکرات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
پارٹی نے اس ممکنہ صورتحال کا بھی حساب لگایا ہے کہ اگر یورپی یونین جوابی اقدامات کرتی ہے اور برطانیہ میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو تقریباً 50 کروڑ پاؤنڈ اضافی لاگت آسکتی ہے۔
برطانیہ پہلے ہی فلاحی نظام پر بھاری رقم خرچ کرتا ہے
حکومتی اندازوں کے مطابق رواں سال برطانیہ میں فلاحی نظام پر مجموعی طور پر تقریباً 322 ارب پاؤنڈ خرچ ہونے کی توقع ہے، جو ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 10.6 فیصد بنتا ہے۔
اس رقم کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ پنشنرز سے متعلق اخراجات پر صرف ہوتا ہے۔
رِفارم یو کے کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اپنی فلاحی پالیسی پر کام کیا اور تقریباً 50 صفحات پر مشتمل منصوبہ تیار کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے مکمل منصوبے سے مجموعی طور پر سالانہ 50 ارب پاؤنڈ تک بچت ممکن ہوسکتی ہے۔
پارٹی نے ہفتے کے روز یہ بھی اعلان کیا تھا کہ حکومت میں آنے کی صورت میں معذوری سے متعلق موجودہ پی آئی پی نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔
لیبر نے منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا دیا
حکومتی جماعت لیبر نے رِفارم یو کے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے برطانیہ دوبارہ برسوں پر محیط بریگزٹ مذاکرات میں الجھ سکتا ہے۔
لیبر کے مطابق ایسے افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو قانونی طور پر کئی برس یا حتیٰ کہ کئی دہائیوں سے برطانیہ میں رہ رہے، کام کررہے اور ٹیکس ادا کررہے ہیں۔
حکومت کا یہ بھی مؤقف ہے کہ بیشتر تارکین وطن پہلے ہی سرکاری فوائد حاصل کرنے کے اہل نہیں، اس لیے رِفارم یو کے کی جانب سے پیش کی جانے والی بچت کے دعوے پر سوال اٹھتا ہے۔
کنزرویٹو اور دیگر جماعتوں کا ردعمل
کنزرویٹو پارٹی نے بھی رِفارم کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کی شیڈو پنشن سیکریٹری ہیلن ویٹلی نے کہا کہ برطانوی عوام چاہتے ہیں کہ فلاحی اخراجات قابو میں رہیں، نظام کے غلط استعمال کو روکا جائے اور شدید معذوری کا سامنا کرنے والے افراد کو مناسب تحفظ ملے۔
لبرل ڈیموکریٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ فلاحی اخراجات کم کرنے کے لیے صحت اور سماجی نگہداشت کے نظام کو بہتر بنانا زیادہ مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔
گرین پارٹی نے بھی رِفارم کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے سب سے کمزور افراد سے مدد واپس لینا مناسب طریقہ نہیں۔
پالیسی سے برطانوی پاکستانیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
رِفارم یو کے کی تجویز فی الحال ایک سیاسی پالیسی اعلان ہے، نافذ شدہ قانون نہیں۔ اس لیے اس مرحلے پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ مستقبل میں کون سے افراد عملی طور پر بینیفٹس سے محروم ہوں گے یا موجودہ سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والوں کے حقوق میں کیا تبدیلی آئے گی۔
تاہم برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کے حوالے سے یہ تجویز خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسے نافذ کرنے کے لیے بریگزٹ کے بعد طے شدہ حقوق اور معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی اس معاملے کی اہمیت اس لیے ہے کہ برطانیہ کی امیگریشن اور فلاحی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں مستقبل میں دیگر غیر ملکی شہریوں کے حقوق اور اہلیت کے قواعد پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
رِفارم یو کے کے شیڈو چانسلر رابرٹ جینرک اپنی فلاحی پالیسی کے مزید نکات باضابطہ طور پر پیش کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد پارٹی کے مجوزہ نظام کی تفصیلات، قانونی طریقہ کار اور ممکنہ مالی اثرات مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
اگر پارٹی مستقبل میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے تو ان تجاویز کو قانون بنانے کے لیے پارلیمانی منظوری اور بعض معاملات میں بین الاقوامی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
فی الحال یہ معاملہ برطانیہ کی سیاست میں امیگریشن، فلاحی اخراجات اور بریگزٹ کے بعد یورپی شہریوں کے حقوق کے درمیان ایک اہم سیاسی بحث بن چکا ہے۔
- رِفارم یو کے غیر ملکی شہریوں کے بیشتر بینیفٹس روکنے کی تجویز دے رہی ہے۔
- یورپی یونین کے سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والے شہری بھی مجوزہ پابندی کے دائرے میں شامل ہیں۔
- پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پانچویں سال تک سالانہ 21 ارب پاؤنڈ کی بچت ہوسکتی ہے۔
- منصوبے پر لیبر، کنزرویٹو، لبرل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی نے مختلف انداز میں تنقید کی ہے۔
- پالیسی ابھی تجویز کی سطح پر ہے، نافذ شدہ قانون نہیں۔
سوال: رِفارم یو کے کی نئی تجویز کیا ہے؟
جواب: پارٹی اقتدار میں آنے کی صورت میں زیادہ تر غیر ملکی شہریوں کو سرکاری بینیفٹس سے خارج کرنا چاہتی ہے۔
سوال: کیا یورپی یونین کے شہری بھی متاثر ہوں گے؟
جواب: مجوزہ منصوبے کے مطابق سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والے یورپی یونین کے شہری بھی اس پالیسی کے دائرے میں آسکتے ہیں۔
سوال: کون سے فوائد متاثر ہوسکتے ہیں؟
جواب: تجویز میں ہاؤسنگ بینیفٹ، پنشن کریڈٹ، جاب سیکر الاؤنس، چائلڈ بینیفٹ، مفت بچوں کی نگہداشت اور معذوری سے متعلق فوائد شامل ہیں۔
سوال: رِفارم یو کے کتنی بچت کا دعویٰ کررہی ہے؟
جواب: پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پانچویں سال تک اس پالیسی سے سالانہ تقریباً 21 ارب پاؤنڈ کی بچت ہوسکتی ہے۔
سوال: کیا یہ پالیسی ابھی نافذ ہوچکی ہے؟
جواب: نہیں۔ یہ رِفارم یو کے کی مجوزہ پالیسی ہے اور اسے نافذ کرنے کے لیے مستقبل میں پارلیمانی اور بعض صورتوں میں بین الاقوامی سطح پر اقدامات درکار ہوں گے۔
سوال: کیا اس کے لیے بریگزٹ معاہدے میں تبدیلی ضروری ہوگی؟
جواب: یورپی یونین کے سیٹلڈ اسٹیٹس رکھنے والے شہریوں کو متاثر کرنے کی صورت میں بریگزٹ کے بعد طے شدہ انتظامات پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
