تکبیر نیوز (برمنگھم): برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم سے گزشتہ ایک سال کے دوران 80 ہزار سے زائد افراد کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد شہر کو آبادی کی نقل مکانی کے حوالے سے لندن کے بعد ملک کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا شہر قرار دیا گیا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق برمنگھم سے بڑی تعداد میں لوگ نسبتاً پُرسکون اور کم مصروف علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب تقریباً 63 ہزار افراد برمنگھم منتقل بھی ہوئے، تاہم مجموعی طور پر شہر کی آبادی میں تقریباً 22 ہزار افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
برمنگھم چھوڑنے والے کہاں جا رہے ہیں؟
آبادی کی نقل مکانی کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں رہائش، طرز زندگی اور زیادہ پُرسکون ماحول کی تلاش شامل ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق برمنگھم سے منتقل ہونے والوں میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جو شہر کی مصروف زندگی سے نکل کر نسبتاً پرسکون اور خوشحال علاقوں میں رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
قریبی علاقوں میں لیمنگٹن سپا، سولیہل اور رگبی ایسے مقامات میں شامل ہیں جہاں برمنگھم سے منتقل ہونے والے افراد کا رخ ہوسکتا ہے۔
اعداد و شمار میں برمنگھم سے سب سے زیادہ نقل مکانی سینڈویل کی جانب بھی دکھائی گئی ہے، اگرچہ دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان تمام افراد نے علاقے کے کس حصے میں رہائش اختیار کی۔
بڑے شہروں سے آبادی کا اخراج
دفتر برائے قومی شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال انگلینڈ اور ویلز کے تمام بڑے شہروں نے برطانیہ کے دیگر علاقوں کی طرف جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا، یعنی ان شہروں سے جتنے لوگ دوسرے علاقوں میں گئے، اتنے واپس یا نئے لوگ وہاں منتقل نہیں ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ملک کے اندر ہونے والی نقل مکانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں بیرون ملک سے ہونے والی امیگریشن شامل نہیں، تاہم اس میں انگلینڈ اور ویلز سے اسکاٹ لینڈ یا شمالی آئرلینڈ منتقل ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ویسٹ مڈلینڈز کے مصروف شہروں کے بجائے بعض خاندان نسبتاً پُرسکون علاقوں میں منتقل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وارک اور لِچ فیلڈ میں نئے رہائشیوں کی تعداد بڑھی
نقل مکانی کے رجحان میں برمنگھم کے آس پاس کے بعض علاقوں کو فائدہ بھی پہنچا ہے۔ وارک میں تقریباً 2 ہزار نئے رہائشی آئے، جبکہ لِچ فیلڈ میں بھی 1 ہزار 800 سے زائد افراد منتقل ہوئے۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے شہری مراکز کے قریب واقع نسبتاً چھوٹے شہروں اور قصبوں میں رہائش اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
برمنگھم جیسے بڑے شہری مرکز سے روزگار اور کاروبار کے لیے مکمل طور پر دور جانے کے بجائے کچھ لوگ ایسے علاقوں کا انتخاب کرسکتے ہیں جہاں شہر تک رسائی بھی برقرار رہے اور رہائشی ماحول نسبتاً پُرسکون ہو۔
2025 میں 40 لاکھ افراد نے جگہ بدلی
مجموعی طور پر تقریباً 40 لاکھ افراد نے 2025 کے دوران انگلینڈ اور ویلز کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں نقل مکانی کی۔
اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ کے صرف دو خطوں میں اندرونِ ملک نقل مکانی کے نتیجے میں آبادی کا خالص نقصان ہوا، جن میں لندن اور ویسٹ مڈلینڈز شامل ہیں۔
برمنگھم سے بڑی تعداد میں لوگوں کا دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہونا ویسٹ مڈلینڈز میں آبادی کے اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔
برمنگھم کے لیے اس رجحان کی اہمیت
آبادی کی مسلسل نقل مکانی کسی بھی بڑے شہر کے لیے اہم معاملہ ہوسکتی ہے۔ ایک طرف شہر سے جانے والے افراد کے باعث رہائشی طلب میں تبدیلی آسکتی ہے، جبکہ دوسری طرف نئے رہائشیوں کی آمد شہری خدمات، رہائش اور مقامی معیشت پر مختلف نوعیت کے اثرات ڈال سکتی ہے۔
تاہم دستیاب اعداد و شمار صرف یہ بتاتے ہیں کہ لوگ کہاں سے کہاں منتقل ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ برمنگھم چھوڑنے کی ایک ہی وجہ ہے یا تمام افراد بہتر طرز زندگی کی تلاش میں شہر سے باہر گئے۔
اعداد و شمار کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ برمنگھم سے نقل مکانی کے باوجود ہزاروں افراد شہر میں منتقل بھی ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے رہائش، روزگار اور دیگر مواقع کا مرکز ہے۔
