تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں کونسل گھروں کی کمی کے بحران کے درمیان رائٹ ٹو بائے اسکیم کے تحت سرکاری گھروں کی فروخت کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے آغاز سے اب تک برمنگھم سٹی کونسل نے کرایہ داروں کو 2 ہزار 323 کونسل گھر فروخت کیے، جبکہ اسی عرصے میں صرف 480 نئے کونسل گھر تعمیر کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک نئے کونسل گھر کی تعمیر کے مقابلے میں تقریباً چار گھر رائٹ ٹو بائے کے تحت فروخت ہوئے۔ کونسل نے اسی عرصے میں مزید 755 گھر خریدے، جس کے بعد مجموعی طور پر 1 ہزار 235 گھروں کا اضافہ ہوا، لیکن فروخت ہونے والے 2 ہزار 323 گھروں کے مقابلے میں سرکاری رہائشی اسٹاک پھر بھی نمایاں طور پر کم ہوا۔
35 ہزار گھرانے ہاؤسنگ رجسٹر پر موجود
برمنگھم میں سرکاری رہائش کی طلب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 35 ہزار گھرانے اس وقت کونسل کے ہاؤسنگ رجسٹر پر موجود ہیں۔ بہت سے خاندان دستیاب خالی گھروں کے لیے طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔
کچھ درخواست گزاروں کو سرکاری رہائش کے لیے 10 سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا ہے، جبکہ بعض خاندان بھیڑ بھاڑ والے گھروں، عارضی رہائش یا رشتہ داروں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔
رہائش کی کمی کا دباؤ بچوں اور بے گھر خاندانوں تک بھی پہنچ رہا ہے، جن میں بعض کو بی اینڈ بی اور دیگر عارضی رہائش گاہوں میں رکھا جاتا ہے۔ ایسی عارضی رہائش کونسلوں پر اضافی مالی بوجھ بھی ڈالتی ہے۔
سابق کونسلر نے رائٹ ٹو بائے کو ’لیک ہوتی بالٹی‘ قرار دے دیا
برمنگھم کے سابق کونسلر اور ہاؤسنگ ماہر اسکاٹ بریرٹن نے موجودہ صورتحال کو ایسی بالٹی سے تشبیہ دی جس میں پانی بھرنے کے ساتھ نیچے سے پانی نکلتا رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف کونسل نئے گھر تعمیر کرتی ہے جبکہ دوسری طرف رائٹ ٹو بائے اور رائٹ ٹو ایکوائر کے ذریعے موجودہ سرکاری گھر کم ہوتے جاتے ہیں۔
انہوں نے اس پہلو کی بھی نشاندہی کی کہ سابق کونسل کے کچھ گھر اب نجی مالکان کی ملکیت میں ہیں اور بعض صورتوں میں وہی گھر بعد میں کونسل کو زیادہ کرائے پر واپس لینے پڑتے ہیں، جس سے عوامی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
رائٹ ٹو بائے ختم کرنے کا مطالبہ
رائٹ ٹو بائے اسکیم 1980 میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد کونسل کے کرایہ داروں کو رعایتی قیمت پر اپنے گھروں کا مالک بننے کا موقع دینا تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے میں اس پالیسی نے سرکاری رہائشی گھروں کے ذخیرے کو کم کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برطانیہ کے کئی شہروں میں سستی اور سماجی رہائش کی شدید قلت ہے۔
کچھ ہاؤسنگ ماہرین اور کارکنوں نے اسکیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ لوگوں کی گھر خریدنے کی خواہش نہیں بلکہ یہ ہے کہ عوامی ملکیت میں موجود محدود تعداد کے گھروں کو مستقبل میں ضرورت مند خاندانوں کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
حکومت نے مکمل خاتمے کے بجائے قواعد سخت کیے
رائٹ ٹو بائے کو ختم کرنے کے بجائے لیبر حکومت کے دور میں اس کے قواعد سخت کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اپریل سے نئی تبدیلیوں میں کم از کم کرایہ داری کی مدت کو تین سال سے بڑھا کر 10 سال کرنا، رعایت کو جائیداد کی مالیت کے 15 فیصد تک محدود کرنا اور نئے سماجی گھروں کو 35 سال تک تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔
حکومتی اصلاحات کا مقصد مقامی کونسلوں کو موجودہ سماجی رہائشی اسٹاک کے تحفظ میں زیادہ گنجائش دینا اور رائٹ ٹو بائے سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال میں لچک پیدا کرنا ہے۔
برمنگھم کونسل کا مؤقف
برمنگھم سٹی کونسل کے ہاؤسنگ امور کے کابینہ رکن کونسلر بابر باز کے مطابق شہر کو ہاؤسنگ رجسٹر پر غیر معمولی دباؤ اور سماجی رہائش کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی سال کی کم سرمایہ کاری اور رائٹ ٹو بائے کے تحت گھروں کے مسلسل کم ہونے نے موجودہ بحران کو مزید مشکل بنایا ہے۔
کونسل کا ہدف رجسٹرڈ ہاؤسنگ فراہم کرنے والے اداروں اور نجی ڈویلپرز کے ساتھ شراکت کے ذریعے ہر سال 1 ہزار 83 سستے گھروں کی فراہمی ہے۔
سال بہ سال اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں برمنگھم میں 337 کونسل گھر فروخت ہوئے جبکہ 103 نئے گھر تعمیر کیے گئے۔ 2021 میں فروخت 437 اور تعمیر صرف 46 رہی۔
2022 میں 467 گھر فروخت اور 151 تعمیر ہوئے، جبکہ 2023 میں 403 فروخت اور 85 نئے گھر بنائے گئے۔ 2024 میں 302 گھر فروخت ہوئے اور صرف 30 نئے گھر تعمیر کیے گئے۔
2025 میں صورتحال مزید نمایاں رہی، جب 377 کونسل گھر فروخت ہوئے جبکہ کوئی نیا کونسل گھر تعمیر نہیں ہوا۔ 2026 میں اب تک 119 گھر فروخت اور 60 نئے گھر تعمیر کیے گئے ہیں۔
کونسل نے نئے گھروں کے حصول کے لیے خریداری بھی کی ہے، جس میں پیری بیرا ولیج میں 2024 کے دوران 213 گھروں کی خریداری بھی شامل ہے۔
ہاؤسنگ بحران کا حل صرف مقامی سطح پر ممکن نہیں؟
برمنگھم سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت کی حالیہ تبدیلیاں کونسلوں کو رائٹ ٹو بائے سے حاصل ہونے والی رقم استعمال کرنے اور موجودہ سماجی رہائشی اسٹاک کو محفوظ رکھنے میں زیادہ لچک دیتی ہیں۔
تاہم کونسل کے مطابق طویل مدتی چیلنج اب بھی بڑا ہے اور سماجی رہائش کی فراہمی میں اضافہ ایک ایسا قومی مسئلہ ہے جس کے لیے صرف برمنگھم نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی سطح پر بھی حل درکار ہوگا۔
برمنگھم میں رائٹ ٹو بائے کے اعداد و شمار نے ایک بنیادی سوال پھر سامنے لا دیا ہے: بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ ضروریات کے وقت کیا موجودہ کونسل گھروں کی فروخت اور نئے گھروں کی تعمیر کے درمیان توازن برقرار رکھا جا رہا ہے؟ اس بحث کا جواب آنے والے برسوں میں برطانوی ہاؤسنگ پالیسی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
