میونخ: جرمنی کی ایک عدالت نے میونخ میں گاڑی ہجوم پر چڑھا کر دو سالہ بچی اور اس کی والدہ کو قتل کرنے والے 25 سالہ افغان شہری فرہاد نوری (Farhad Noori) کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جرم "غیر معمولی سنگینی” کا حامل ہے، جس کے باعث مستقبل میں ملزم کی قبل از وقت رہائی انتہائی مشکل ہو جائے گی۔
حملے میں دو افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
استغاثہ کے مطابق فروری 2025 میں فرہاد نوری نے اپنی منی کوپر (Mini Cooper) گاڑی میونخ میں ایک عوامی ریلی کے شرکاء پر چڑھا دی۔
حملے کے نتیجے میں 37 سالہ خاتون اور ان کی دو سالہ بیٹی شدید زخمی ہوئیں اور چند روز بعد اسپتال میں دم توڑ گئیں، جبکہ درجنوں دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
ایک عینی شاہد نے عدالت کو بتایا:
"لوگ بولنگ کے پنز کی طرح دائیں بائیں اچھل رہے تھے۔”
مذہبی محرک قرار
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نے حملے کے بعد "اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ حملے سے قبل شدت پسند افغان مبلغین کا آن لائن مواد دیکھ کر انتہا پسند نظریات سے متاثر ہوا تھا۔
تاہم عدالت میں بتایا گیا کہ اس کے کسی منظم شدت پسند تنظیم، جیسے کہ داعش (IS)، سے براہ راست روابط کے شواہد نہیں ملے۔
2016 میں جرمنی آیا تھا
عدالتی ریکارڈ کے مطابق فرہاد نوری 2016 میں بطور کم عمر پناہ گزین افغانستان سے جرمنی آیا تھا۔
اگرچہ اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی، لیکن وہ جرمنی میں ہی مقیم رہا اور سکیورٹی کے شعبے میں ملازمت بھی کرتا رہا۔
ذہنی صحت کی درخواست مسترد
ملزم کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسے جیل کے بجائے نفسیاتی ادارے بھیجا جائے، تاہم عدالتی ماہرین نے رپورٹ دی کہ اس کی ذہنی حالت ایسی نہیں کہ اسے اپنے جرم کی ذمہ داری سے بری قرار دیا جا سکے۔
عدالت نے دو افراد کے قتل سمیت متعدد دیگر الزامات میں اسے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
