برطانیہ کے علاقے ویسٹ مڈلینڈز میں مجموعی جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران جرائم میں 7 فیصد کمی کے نتیجے میں تقریباً 22 ہزار کم افراد جرائم کا شکار ہوئے۔
اعداد و شمار Office for National Statistics (ONS) کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جو اکتوبر 2024 سے ستمبر 2025 تک کے عرصے پر محیط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز پولیس ان جرائم میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے جو عوام کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چاقو کے ذریعے کیے جانے والے جرائم میں 18 فیصد، گھروں میں چوری کے واقعات میں 21 فیصد، ڈکیتی میں 17 فیصد سے زائد، گاڑیوں سے متعلق جرائم میں 18 فیصد جبکہ فائر آرم (گن کرائم) کے واقعات میں 14 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح سنگین نوجوان تشدد کے واقعات میں تقریباً 11 فیصد اور افراد سے براہ راست چوری کے جرائم میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم میں کمی کی بڑی وجوہات میں پولیس کا فوری ردعمل، گرفتاریوں میں اضافہ، متاثرین کی بہتر دیکھ بھال اور مؤثر تفتیش شامل ہیں۔ چاقو کے جرائم کی روک تھام کے لیے اضافی فنڈنگ اور خصوصی وسائل بدستور ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں ویسٹ مڈلینڈز میں فی ہزار آبادی کے حساب سے چاقو کے جرائم کی شرح ملک میں بلند ترین رہی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے قائم مقام چیف کانسٹیبل Scott Green کا کہنا ہے کہ جاری اعداد و شمار پولیس افسران اور عملے کی مسلسل محنت کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں 60 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مثبت نتائج، جن میں چارج یا وارننگ شامل ہیں، کی شرح بڑھ کر تقریباً 15 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے 999 ایمرجنسی کالز اوسطاً دو سیکنڈ میں اور 101 نان ایمرجنسی کالز 25 سیکنڈ میں اٹینڈ کیں، جو ماضی کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ سال 2025 کے دوران 999 پر 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد اور 101 پر 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد کالز موصول ہوئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جرائم میں کمی حوصلہ افزا ہے، تاہم مستقبل میں متاثرین کی تعداد کو مزید کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، کیونکہ ہر جرم ایک جرم زیادہ ہے۔
