پاکستان میں سولر توانائی کے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے نیپرا کے سخت نوٹس کے باوجود نیٹ میٹرنگ کی درخواستوں کی رجسٹریشن بند کر دی ہے، جس کی وجہ سے نئی درخواستیں وصول نہیں کی جا رہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، لیکن انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا۔
پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت اور نیپرا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص موسیٰ کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کی خودساختہ پابندیوں نے سولر انڈسٹری اور صارفین دونوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں پالیسی میں تبدیلی کے باوجود کام نہیں روکا جاتا، مگر پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے۔
وقاص موسیٰ نے کہا کہ سولر پینلز میں لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے صارفین مہینوں سے نیٹ میٹرنگ کے منتظر ہیں، اور استعمال ہونے والے میٹرز کی منظوری بھی روک دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں مختلف بہانوں سے نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں، جس سے صارفین کے ساتھ ساتھ سولر انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
