تکبیر نیوز (لندن): سینکڑوں تارکین وطن کو مبینہ طور پر فضائی راستے سے غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچانے کے ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران برطانیہ میں تین افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے، جبکہ یورپ کے مختلف ممالک میں بھی بیک وقت کارروائیاں کی گئی ہیں۔
عدالت میں پیش ہونے والوں میں سلاو کے 58 سالہ اقبال کھوکھر، برینٹ فورڈ کے 49 سالہ الجیت چوپڑا اور مشرقی لندن کے نیوہیم سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ عادل خان شامل ہیں۔
تینوں ملزمان کو ایسٹ برکشائر مجسٹریٹس کورٹ، سلاو میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں حراست میں بھیج دیا گیا۔
اقبال کھوکھر اور الجیت چوپڑا پر امیگریشن سے متعلق الزام
اقبال کھوکھر اور الجیت چوپڑا پر غیر برطانوی شہریوں کو برطانیہ کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اقبال کھوکھر پر اس کے علاوہ مبینہ طور پر غلط استعمال کی نیت سے شناختی دستاویزات رکھنے یا ان پر کنٹرول رکھنے کا بھی الزام ہے۔
عادل خان پر مبینہ مجرمانہ اثاثے کے حصول، اسے رکھنے، استعمال کرنے یا اس پر کنٹرول سے متعلق سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تینوں افراد پر منگل 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی گئی۔
سینکڑوں افراد کو فضائی راستے سے لانے کی تحقیقات
تحقیقات ساؤتھ ایسٹ ریجنل آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی سربراہی میں کی جارہی ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا الزام ہے کہ ایک منظم نیٹ ورک یورپ کے مختلف حصوں سے تارکین وطن کو فضائی راستے سے برطانیہ پہنچانے میں ملوث تھا۔
یوروپول کے مطابق مبینہ نیٹ ورک جعلی سفری اور شناختی دستاویزات کے استعمال پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا، جن کے ذریعے افراد کو یورپی ہوائی اڈوں سے سفر کرایا جاتا تھا۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے مبینہ راستے مجموعی طور پر 17 ممالک تک پھیلے ہوئے تھے۔
برطانیہ سمیت کئی ممالک میں بیک وقت کارروائی
22 ستمبر کو برطانیہ کے ساتھ آسٹریا، اٹلی اور اسپین میں بھی مربوط کارروائیاں کی گئیں۔
ان کارروائیوں کے دوران مختلف ممالک میں مجموعی طور پر 6 افراد گرفتار کیے گئے، 10 مقامات کی تلاشی لی گئی جبکہ شناختی دستاویزات، الیکٹرانک آلات، نقد رقم اور دیگر شواہد قبضے میں لیے گئے۔
برطانیہ میں ایک چوتھے شخص کو بھی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرنے کی سازش کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کی جانب سے تفصیلات جاری کیے جانے کے وقت وہ حراست میں تھا۔
یورپ اور امریکہ کے ادارے بھی تحقیقات میں شامل
اس بڑے بین الاقوامی آپریشن میں برطانیہ کے علاوہ آسٹریا، بیلجیئم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے، پرتگال، اسپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی حصہ لیا۔
یوروپول نے مختلف ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، کارروائیوں میں رابطہ اور تحقیقاتی تجزیے میں معاونت فراہم کی۔
پولیس کا بین الاقوامی تعاون پر زور
ساؤتھ ایسٹ ریجنل آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے سربراہ ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ اسٹیو بونیفیس کے مطابق مختلف ممالک میں ایک ساتھ کی جانے والی کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ یوروپول، نیشنل کرائم ایجنسی اور دیگر اداروں کے درمیان تعاون کس قدر اہم ہے۔
ان کے مطابق مختلف ممالک کے درمیان معلومات اور وسائل کا تبادلہ منظم امیگریشن جرائم کے خلاف تحقیقات کیلئے انتہائی اہم رہا ہے۔
واضح رہے کہ اقبال کھوکھر، الجیت چوپڑا اور عادل خان کے خلاف عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
