تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں واش ووڈ ہیتھ روڈ پر واقع زین منی مارکیٹ کے ڈائریکٹر نجیب احمدزئی نے مبینہ طور پر غیر قانونی سگریٹ اور ویپ مصنوعات فروخت کرنے سے متعلق 11 الزامات میں صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔
نجیب احمدزئی اور ان کی کمپنی کے خلاف یہ مقدمہ برمنگھم مجسٹریٹس کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں انہوں نے جمعرات 10 ستمبر کو اپنے خلاف عائد الزامات تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
مقدمے میں شامل مبینہ خلاف ورزیاں گزشتہ سال 19 مارچ کو پیش آنے کا الزام ہے۔
جعلی سگریٹ فروخت کرنے کے الزامات
عدالت میں پیش کیے گئے الزامات میں معروف برانڈز کے مبینہ جعلی سگریٹ فروخت کرنا بھی شامل ہے۔
ان میں لیمپرٹ اینڈ بٹلر، رچمنڈ، بینسن اینڈ ہیجز اور روتھمینز کے نام سے فروخت کیے جانے والے سگریٹ شامل ہیں۔
نجیب احمدزئی پر سوبرانی بلیک سگریٹس کے 23 پیکٹ فروخت کرنے کا بھی الزام ہے، جن کے بارے میں استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ان کی فروخت صارفین کے تحفظ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی تھی۔
ویپ مصنوعات سے متعلق بھی الزامات
مقدمے میں متعدد ویپ مصنوعات کی مبینہ غیر قانونی فروخت سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق بعض ویپس پر قانون کے تحت ضروری صحت سے متعلق انتباہ موجود نہیں تھا۔
الزامات میں فائر روز، ای این ای لیجنڈ، آر اینڈ ایم ٹورنیڈو اور حیاتی پرو میکس سمیت مختلف ویپ مصنوعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
دکان پر الزام ہے کہ یہ مصنوعات مطلوبہ صحت انتباہ کے بغیر فروخت کی گئیں۔
بغیر دھوئیں والے تمباکو کے 50 پیکٹ
ایک اور الزام بغیر دھوئیں والے تمباکو کے 50 پیکٹ فروخت کرنے سے متعلق ہے، جنہیں منہ کے ذریعے استعمال کیلئے فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق اس نوعیت کے تمباکو کی فروخت متعلقہ تمباکو قوانین کے تحت ممنوع ہے۔
مقدمے کی سماعت 5 مارچ کو
نجیب احمدزئی اور زین منی مارکیٹ نے اپنے خلاف عائد الزامات تسلیم نہیں کیے ہیں۔
عدالت نے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کیلئے کیس کو آئندہ سال 5 مارچ تک ملتوی کردیا ہے۔
واضح رہے کہ نجیب احمدزئی اور ان کی کمپنی کے خلاف عائد تمام الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ مقدمے میں جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
